حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

عن سيدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه: أن رسول صلى عليه وسلم أخذ بيده، وقال: يا معاذ، والله إني لأحبك (في الله)، ثم قال صلى الله عليه وسلم: أوصيك يا معاذ لا تدعن في دبر كل صلاة تقول: اللهم أعني على ذكرك، وشكرك، وحسن عبادتك (سنن أبي داود، الرقم: ١٥٢٢)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے فرمایا: اے معاذ! یقینًا میں تم سے محبت کرتا ہوں! ہر (فرض) نماز کے بعد یہ دعا کبھی نہ بھولنا:

اَللّهُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكْ

اے اللہ! آپ میری مدد فرما کہ میں آپ کا ذکر، آپ کا شکر اور آپ کی عبادت اچھی طرح سے کروں۔

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے بت کو توڑنا

نبوت کے تیرویں سال میں انصار کے ستّر افراد حج کے لیے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ان میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو انصار کے قبیلہ بنو سلِمہ سے تھے اور اپنے قبیلے کے اوّلین لوگوں میں سے تھے، جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی۔

حج کے بعد جب انصار مدینہ منورہ واپس آئے، تو وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے لگے۔ قبیلہ بنو سلمہ کے اکثر لوگ اسلام قبول کر لیا، سوائے چند بوڑھوں کے، جو کفر پر قائم رہے۔ ان میں عمرو بن جموح تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے قبیلہ بنو سلمہ کے سرداروں میں سے تھے۔

عمرو بن جموح اپنے گھر میں ایک لکڑی کا بنا ہوا بُت رکھتے تھے، جس کا نام مناة تھا۔ وہ اس بت کی پوجا کرتے تھے اور اس کی بڑی عزت وتکریم کرتے تھے۔ ایک دن قبیلہ بنو سلمہ کے چند نوجوان، جنہوں نے اسلام قبول کر چکے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر ان کو موقع مل جائے، تو وہ عمرو بن جموح کے بت کو کچڑے میں پھینک دیں گے۔

چناں چہ رات کے وقت حضرت معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ (جو عمرو بن جموح کے بیٹے تھے اور مسلمان ہو چکے تھے) اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نوجوانوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر عمرو بن جموح کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بت کو اٹھایا اور بنو سلمہ کے کوڑا خانہ میں (جہاں وہ گندگی پھینکتے تھے) اس بت کو الٹا کر کے پھینک دیا۔

صبح میں جب عمرو بن جموح بیدار ہوئے اور دیکھا کہ اس کا بت غائب ہے، تو اس نے کہا: تمہاری بربادی ہو! رات میں ہمارے معبود کے ساتھ کس نے یہ زیادتی کی اور ظلم کیا؟ اس کے بعد وہ اس کی تلاش میں نکلے؛ یہاں تک کہ انہوں نے اس کو گندگی کے ڈھیر پر الٹا پڑا ہوا پایا۔ انہوں نے اس کو اٹھایا، اسے دھویا، اس پر عطر لگایا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا: اللہ کی قسم! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ کون تیرے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تو میں اسے ضرور رسوا کر دوں گا۔

اس کے بعد ہر رات جب عمرو بن جموح سو جاتے، تو حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہما نوجوانوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر ان کے بت کے ساتھ ایسا ہی کرتے۔ صبح میں جب عمرو بن جموح بیدار ہوتے اور اپنے بت کو غائب پاتے، تو وہ دوبارہ اس کی تلاش میں نکلتے۔ جب وہ اس کو پا لیتے، تو وہ اس کو دھوتے اور اس پر عطر لگاتے۔

جب یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک جاری رہا، تو ایک رات عمرو بن جموح نے اپنی تلوار بت کے گلے میں لٹکا دی اور اس سے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ کون تمھارے ساتھ ایسا کر رہا ہے؛ لیکن اگر تم میں کوئی بھلائی ہے، تو تم اپنا دفاع کرو! یہ ایک تلوار ہے جو میں تمہیں دیتا ہوں؛ (تاکہ تم برا سلوک کرنے والوں سے اپنی حفاظت کر سکوگے)۔

اس رات حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہما نوجوانوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر دوبارہ عمرو بن جموح کے گھر میں آئے؛ تاکہ وہ اس کا بت نکال کر پھینک دیں۔ انہوں نے بت کی گردن سے تلوار اتار دی، ایک مردہ کتّے کو اس کے ساتھ باندھ دیا اور دونوں کو قبیلہ بنو سلمہ کے ایک کنویں میں پھینک دیا، جو لوگوں کے کچڑے سے بھرا ہوا تھا۔

اگلی صبح جب عمرو بن جموح نے پھر اپنا بت غائب پایا، تو وہ اس کی تلاش میں نکلے؛ یہاں تک کہ انہوں نے اس کو ایک کنویں میں ایک مردہ کتّے سے بندھا ہوا پایا۔ جب انہوں نے اپنے بت کو اس ذلت آمیز حالت میں دیکھا، تو ان پر حق واضح ہو گیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

پھر انہوں نے اپنے بت سے مخاطب ہو کر کہا:

تالله لو كنت إلها لم تكن أنت وكلب وسط بئر في قرن

اللہ کی قسم! اگر تُو خدا ہوتا، تو تُو اور کتا ایک ساتھ کنویں کے بیچ میں بندھا نہ ہوتا۔

أف لمصرعك إلها مستدن الآن فتشناك عن سوء الغبن

بربادی ہے ایسے ذلیل معبود پر، جو گندگی اور کچڑے میں پڑا ہے۔ اب جب ہم نے تمہارے بارے میں غور کیا ہے، تو ہم نے تم کو (یعنی تمہاری پرستش کو) برا سودا پایا ہے۔

فالحمد لله العلي ذي المنن الواهب الرزاق وديان الدين

پس تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو سب سے بلند ہے، تمام نعمتوں کا مالک، عطا فرمانے والا، رزق دینے والا اور دینِ حق کا بھیجنے والا ہے۔

هو الذي أنقذني من قبل أن أكون في ظلمة قبر مرتهن

اللہ تعالی وہی ذات ہے، جس نے (ایمان کے ذریعے سے) مجھے قبر کی تاریکی میں پھنسنے سے نجات عطا فرمائی۔

بأحمد المهدي النبي المرتهن

اللہ تعالی نے مجھے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے نجات عطا فرمائی، جو ہدایت یافتہ نبی ہیں اور دینِ اسلام لانے والے ہیں۔

(روض الانف ۲/۲۷۹)

Check Also

بندوں پر اللہ تعالٰی کا حق

ذات مرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لسيدنا معاذ رضي الله عنه: هل …