صلا ة وسلام کا معنی

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ “صلاۃ علی النبی” کے مختلف معنی ہیں۔ چناں چہ علمائے کرام نے لفظ ’صلاۃ‘ کی مختلف تشریحات کی ہیں؛ تاکہ اس کا مناسب معنی مراد لیا جائے جب  اللہ تعالی، فرشتوں اور مومنین کی طرف اس کی نسبت کی جائے۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا مطلب  ان کی تعریف اور تعظیم کے ساتھ ساتھ ان کے لیے رحمت، شفقت اور خصوصی محبت کا اظہار ہے۔ علما یہ بھی فرماتے ہیں کہ تعریف ، تکریم اور شفقت و محبت و  کا  دارومدار درود و سلام بھیجنے والے پر ہے۔

اگر صلاۃ کی نسبت اللہ کی طرف  ہو تو اس سے مراد ایک مختلف قسم کی تعریف، عزت اور رحمت ہے اور اگر صلاۃ  فرشتوں اور مومنین کی طرف سے ہو تو اس سے مراد دوسری قسم کی تعریف، عزت اور رحمت ہے۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل مثال دے کر اس کی وضاحت فرمائی ہے:

ہم کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے پر مہربان اور شفیق ہوتا ہے، یا بیٹا اپنے باپ پر مہربان اور شفیق ہوتا ہے، یا بھائی اپنے بھائی کے لیے مہربان اور شفیق ہوتا ہے۔ تاہم، ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ باپ بیٹے سے جس محبت اور شفقت کا اظہار کرتا ہے وہ اس سے مختلف ہے جس کا بیٹا اپنے باپ سے اظہار کرتا ہے، یا جس کا  بھائی اپنے بھائی سے  اظہار کرتا ہے۔

یہاں بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خصوصی شفقت فرماتے ہیں ۔ فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں لیکن ان کا درود بھیجنا ان کے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے ہے  ۔ اس کے بعد مومنین کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مقام کے مطابق حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں ۔

روح البیان کے مصنف لکھتے ہیں:

بعض علماء کے نزدیک حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود تک پہنچاتے ہیں یعنی انہیں امت محمدیہ  (اور پوری مخلوق) کی طرف سے   شفاعت کا درجہ دیتے  ہیں اور فرشتوں کی طرف سے صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  درجات  خوب بلند کرے ۔ اور مومنین کی طرف سے صلاۃ  علی  النبی سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرنا (مثلاً درود و سلام پڑھ کر اظہار محبت ) اور  آپ کی بہترین تعریف کرنا ہے ۔

حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ نے صلاۃ کا ترجمہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی محبت کی بارش کے طور پر کیا ہے۔

حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ درود کا خلاصہ اللہ تعالیٰ سے مانگنا اور التجا کرنا ہے کہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کامل اور خصوصی رحمت اور دونوں جہانوں کی سلامتی نازل فرمائے۔

Check Also

قرآن مجید میں درود کا حکم

قرآن مجید کی بعض ایسی آیات ہیں، جن میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو …