چار رکعت فرض نماز میں قعدہ اخیرہ بھول جانا

سوال: ایک آدمی چار رکعت فرض نماز پڑھ رہا تھا۔ چوتھی رکعت ادا کرنے کے بعد وہ قعدہ اخیرہ کے لیے نہیں بیٹھا؛ بل کہ بھول کر پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا۔ پھر اس نے پانچویں رکعت میں رکوع اور سجدہ کیا، پھر تشہد کے لیے بیٹھا اور سلام پھیرا۔

اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کی فرض نماز درست ہے یا اس پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا؟

الجواب حامدًا ومصلیًا

جواب : چار رکعت والی فرض نماز میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔ اگر کوئی قعدہ اخیرہ کے لیے نہیں بیٹھا تو اس کی فرض نماز ادا نہیں ہوگی اور اسے دوبارہ نماز پڑھنی ہوگی۔ لہٰذا چوں کہ وہ چوتھی رکعت میں قعدہ کے لیے نہیں بیٹھا اس لیے اس کی فرض نماز صحیح نہیں ہوئی ۔ اس کے ذمہ چار رکعت فرض نماز کا اعادہ لازم ہے ۔

فقط واللہ تعالی اعلم

وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة هكذا في المحيط وفي الخلاصة ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو كذا في التتارخانية وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا كذا في المحيط وتحولت صلاته نفلا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى ويضم إليها ركعة سادسة ولو لم يضم فلا شيء عليه كذا في الهداية ثم اختلف أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى في وقت الفساد فقال أبو يوسف رحمه الله تعالى كما وضع رأسه للسجود تفسد صلاته وقال محمد رحمه الله تعالى لا تفسد صلاته حتى يرفع رأسه من السجود ففرض السجود عند أبي يوسف رحمه الله تعالى يتأدى بوضع الرأس وعند محمد رحمه الله تعالى بالوضع والرفع كذا في المحيط قال فخر الإسلام في الجامع الصغير والمختار للفتوى قول محمد رحمه الله تعالى كذا في النهاية (الفتاوى الهندية 1/129)

(ولو سها عن القعود الأخير) كله أو بعضه (عاد) ويكفي كون كلا الجلستين قدر التشهد (ما لم يقيدها بسجدة) لأن ما دون الركعة محل الرفض وسجد للسهو لتأخير القعود (وإن قيدها) بسجدة عامدا أو ناسيا أو ساهيا أو مخطئا (تحول فرضه نفلا برفعه) الجبهة عند محمد وبه يفتى لأن تمام الشيء بآخره (الدر المختار 2/85)

دار الافتاء، مدرسہ تعلیم الدین

اسپنگو بیچ، ڈربن، جنوبی افریقہ

Check Also

قرآن شریف کے ساتھ جُڑے ہوئے غلاف کو چھونے والے کے لیے وضو‎ ‎

سوال: کیا قرآن شریف سے متصل (یعنی جُڑے ہوئے) غلاف کو چھونے کے لیے باوضو …