غلاموں کو آزاد کرنے سے افضل

عن أبي بكر رضي الله عنه قال: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار والسلام على النبي صلى الله عليه وسلم أفضل من عتق الرقاب وحبّ رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل من مهج الأنفس أو قال: من ضرب السيف في سبيل الله (رواه النميري وابن بشكوال موقوفا كما في القول البديع صـــ 263)

حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجنا گناہوں کو اس سے زیادہ تیزی سے مٹا دیتا ‏ہے، جس طرح پانی آگ کو بُجھا دیتا ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر سلام بھیجنا غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے اور ‏رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے محبت کرنا اپنی جانیں قربان کرنے سے افضل ہے (راوی کہتا ہے) یا انہوں نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ‏تلوار چلانے سے افضل ہے۔

حوضِ کوثر سے بھر پور پیالہ پینا

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

جو شخص یہ چاہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حوض سے بھر پور پیالہ پیوے، وہ یہ درود پڑھا کرے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَوْلَادِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَأَصْهَارِهِ وَأَنْصَارِهِ وَأَشْيَاعِهِ وَمُحِبِّيْهِ وَأُمَّتِهِ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ أَجْمَعِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ

اے اللہ! درود (رحمت) بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کے اہل وعیال پر، ان کے صحابہ کرام پر، ان کی اولاد پر، ان کی پاک بیویوں پر، ان کے بچوں پر، ان کے گھر والوں پر، ان کے سُسرالی رشتہ داروں پر، ان کے مددگاروں (انصار) پر، ان کے پیروکاروں پر، ان سے محبت کرنے والوں پر، ان کی امت پر اور ان کے ساتھ ہم سب پر، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!۔

(الشفا بتعریف حقوق المصطفی ۲/۸۲ ؛ فضائل درود، ص ۶۵)

دن پر رات کی فضیلت

نزہۃ المجالس میں ایک عجیب قصہ لکھا ہے کہ رات اور دن میں آپس میں مناظرہ ہوا کہ ہم میں سے کونسا افضل ہے۔

دن ‏نے اپنی فضیلت کے لیے کہا کہ میرے میں تین فرض نمازیں ہیں اور تیرے میں دو اور مجھ میں جمعہ کے دن ایک ‏ساعتِ اجابت ہے، جس میں آدمی جو مانگے، وہ ملتا ہے (یہ صحیح اور مشہور حدیث ہے) اور میرے اندر رمضان المبارک کے ‏روزہ رکھے جاتے ہیں۔

تُو لوگوں کے لیے سونے اور غفلت کا ذریعہ ہے اور میرے ساتھ تیقظ اور چوکنّاپن ہے اور مجھ میں ‏حرکت ہے اور حرکت میں برکت ہے اور میرے میں آفتاب نکلتا ہے، جو ساری دنیا کو روشن کر دیتا ہے۔

رات نے کہا کہ ‏اگر تُو اپنے آفتاب پر فخر کرتا ہے، تَو میرے آفتاب الله والوں کے قلوب ہیں۔ اہل تہجد اور الله کی حکمتوں میں غور کرنے ‏والوں کے قلوب ہیں۔ تُو ان عاشقوں کے شراب تک کہاں پہنچ سکتا ہے، جو خلوت کے وقت میں میرے ساتھ ہوتے ‏ہیں۔ تُو معراج کی رات کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔

تُو الله جل شانہ کے پاک ارشاد کا کیا جواب دےگا، جو اس نے اپنے پاک رسول ‏صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا: ”وَمِنَ الَّیۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِه نَافِلَةً لَّکَ“ کہ رات کو تہجد پڑھیئے، جو بطورِ نافلہ کے ہے آپ کے ‏لیے۔ الله نے مجھے تجھ سے پہلے پیدا کیا۔ میرے اندر لیلة القدر ہے، جس میں مالک کی نامعلوم کیا کیا عطائیں ہوتی ہیں۔

الله کا ‏پاک ارشاد ہے کہ وہ ہر رات کے آخری حصہ میں یُوں ارشاد فرماتا ہے: کوئی ہے مانگنے والا، جس کو دوں؟ کوئی ہے توبہ کرنے ‏والا، جس کی توبہ قبول کروں؟ کیا تجھے الله کے اس پاک ارشاد کی خبر نہیں: ”یٰۤاَیُّها الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾‏‎قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾‏‎“؟ کیا تجھے الله کے اس پاک ارشاد کی خبر نہیں کہ جس میں الله نے ارشاد فرمایا: ”سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِهٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا“ پاک ہے وہ ذات، جو رات کو لے گیا اپنے بندے کو مسجدِ ‏حرام سے مسجدِ اقصےٰ تک۔ (فضائل درود شریف، ص ۱۹۲)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

سو بار درود شریف پڑھنے کا خاص ثواب

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صلى علي عشرا صلى الله عليه مئة ومن صلى علي مئة صلى الله عليه ألفا ومن زاد صبابة وشوقا كنت له شفيعا وشهيدا يوم القيامة أخرجه أبو موسى المديني بسند قال الشيخ مغلطاي لا بأس به (القول البديع ص٢٣٦)...