ستّر فرشتوں کا ایک ہزار دن تک ثواب لکھنا

عن ابن عباس رحمه الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قال جزى الله عنا محمدا صلى الله عليه وسلم بما هو أهله أتعب سبعين كاتبا ألف صباح (حلية الأولياء ۳/٢٠٦، المعجم الأوسط للطبراني، الرقم: ۲۳۵ ، وفي سنده هاني بن المتوكل وهو ضعيف كما في القول البديع صـ ١١٦)

حضرت ابن عباس رضی الله عنہما حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص یہ دعا کرے:

جَزٰى اللهُ عَنَّا مُحَمَّدًا صَلّٰى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ

الله جلّ شانہ جزا دے محمد صلی الله علیہ وسلم کو ہم لوگوں کی طرف سے، جس بدلے کے وہ مستحق ہیں۔

تو اس کا ثواب ستر (۷۰) فرشتوں کو (لکھنے میں) ایک ہزار دن تک مشقت میں ڈالےگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اپنی امت کی محبت

مواہب لدنیہ میں تفسیرِ قشیری سے نقل کیا ہے کہ قیامت میں کسی مؤمن کی نیکیاں کم وزن ہو جائیں گی، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک پرچہ سرِ انگشت کے برابر نکال کر میزان میں رکھ دیں گے، جس سے نیکیوں کا پلہّ وزنی ہو جائےگا۔

وہ مؤمن کہےگا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں! آپ کون ہیں؟ آپ کی صورت اور سیرت کیسی اچھی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: میں تیرا نبی ہوں اور یہ درود شریف ہے، جو تو نے مجھ پر پڑھا تھا۔ میں نے تیری حاجت کے وقت اس کو ادا کر دیا۔ (فضائل درود، ص١٥٠)

حضرت ابو  ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمہ وقت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر باشی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ہیں۔ ان سے جتنی زیادہ حدیثیں منقول ہیں، اتنی کسی اور صحابی سے منقول نہیں۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں صرف چار سال گزارنے کا موقع ملا؛ چونکہ انہوں نے سن ۷ ہجری میں اسلام قبول کیا اور سن ۱۱ ہجری میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے؛ لیکن انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ اتنی کم مدّت میں انہوں نے اتنی زیادہ حدیثیں کیسے یاد کر لیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

لوگوں کو اس بات پر تعجّب ہوتا ہے کہ میں بہت زیادہ حدیثیں کیسے روایت کرتا ہوں۔ بات در اصل یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی تجارت میں مشغول رہتے تھے اور میرے انصار بھائی کاشتکاری میں لگے رہتے تھے، جب کہ میں ہمہ وقت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا کرتا تھا اور میں اصحابِ صفہ میں سے تھا۔

مجھے ذریعۂ معاش کی بالکل فکر نہیں رہتی تھی۔ میں ہمیشہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا اور جو چیز بھی کھانے کے لیے میسّر ہو جاتی تھی، اسی پر قناعت کرتا تھا۔ بسا اوقات صرف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تھا۔ میرے علاوہ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوّتِ حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلا دو۔ میں نے فوراً اپنی چادر پھیلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چادر پر اپنے دستِ مبارک سے کچھ لکیر کھینچیں اور مجھ سے فرمایا: اس چادر کو اپنے بدن پر لپیٹ لو۔

میں نے اس کو اپنے سینے پر لپیٹ لیا۔ اس دن سے میری یہ کیفیت ہے کہ جو کچھ بھی میں نے یاد رکھنا چاہا، میں کبھی نہیں بھولا۔ (صحیح البخاری، الرقم: ۲۰۴۷)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=3854

Check Also

صبح وشام درود شریف پڑھنا

عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ عَشرًا وَحِينَ يُمسِي عَشرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِى يَومَ القِيَامَة (فضائل درود)...