
كتب سيدنا عمر رضي الله عنه إلى أهل الكوفة:
إني قد بعثت عمار بن ياسر أميرا، وعبد الله بن مسعود معلما ووزيرا (لسيدنا عمار رضي الله عنه) ، وهما من النجباء من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل بدر، فاقتدوا بهما، وأطيعوا واسمعوا قولهما، وقد آثرتكم (أهل الكوفة) بعبد الله على نفسي (أي: بعثته إلى الكوفة مع أني كنت أحتاج إليه في المدينة المنورة) (أسد الغابة ٣/٣٨١)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو لکھا:
میں نے عمار بن یاسر کو آپ لوگوں کا گورنر اور عبد اللہ بن مسعود کو آپ لوگوں کا معلم اور (عمار کے لیے) وزیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص صحابہ میں سے ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے ہیں؛ لہٰذا ان کا اتّباع کرو، ان کی اطاعت کرو اور جو کچھ وہ کہیں، اس کو سنو۔ میں نے عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں آپ لوگوں کو اپنے اوپر ترجیح دی ہے (یعنی میں عبد اللہ بن مسعود کا محتاج ہوں یہاں مدینہ منورہ میں؛ لیکن اس کے باوجود میں نے آپ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ان کو کوفہ بھیجا ہے)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو آخرت کی طرف بلانا
سلَمہ بن تمّام رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات سے چند دن پہلے ایک شخص ان سے ملنے آیا۔ ان سے ملنے کے بعد اس شخص نے ان سے کہا: اے ابن مسعود! کل رات میں نے آپ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک منبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا: اے ابن مسعود! میرے پاس آ جاؤ؛ کیوں کہ لوگوں نے (میرے انتقال کے بعد) تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔
یہ خواب اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب تھا۔
جب اس شخص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنے خواب کا ذکر کیا، تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اللہ کی قسم! کیا واقعی تم نے کل رات یہ خواب دیکھا تھا؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ ہاں، واقعی میں نے کل رات یہ خواب دیکھا تھا۔
یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا کہ تم سے میری گزارش ہے کہ تم کچھ دنوں مدینہ منورہ میں رہو اور میری نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے کے بعد ہی مدینہ منورہ سے رخصت ہو جاؤ۔
چند روز بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور ان کی نماز جنازہ مدینہ منورہ میں پڑھائی گئی۔ (اسد الغابہ ۳/۲۸۵)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી