في إحدى المرّات، سُئل سيّدنا عمر رضي الله عنه عن مسألة، وكان سيّدنا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه جالسًا عنده. فالتفت سيّدنا عمر رضي الله عنه إليه، وطلب منه أن يُجيب عن تلك المسألة.
فلمّا أجاب سيّدنا عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، أقرّ سيّدنا عمر رضي الله عنه جوابه وأثنى عليه قائلاً:
كنيف ملئ علما (أي: إنه كالكيس الصغير المملوء علمًا، يعني: قلبه مملوءٌ بالعلم الغزير على رغم صِغَر جِسمه وقِصَر قامته). (من الموطأ للإمام محمد، الرقم: ٦٠٧)
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ وہ اس مسئلہ کا جواب دیں۔
جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کا جواب دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب کو صحیح قرار دیا اور ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک چھوٹے سے تھیلے کی مانند ہے، جس میں علم بھرا ہوا ہے (یعنی وہ قد وقامت میں چھوٹے ہیں؛ لیکن ان کے پاس بہت زیادہ علم ہے۔ (موطا امام محمد، الرقم: ۶۰۷)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یقین
ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پنے مرض الوفات میں تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کون سی بیماری ہے (جس کی وجہ سے آپ تکلیف میں ہیں)؟
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اِس وقت جس چیز کی وجہ سے میں تکلیف میں ہوں یہ ہے کہ مجھے اپنے گناہوں کے حساب کی فکر ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کہ کیا آپ کی کوئی خواہش ہے، جس کو میں پوری کر سکوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اِس وقت مجھے جس چیز کی خواہش ہے، وہ میرے رب کی رحمت ہے۔
اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا میں آپ کے علاج کے لیے ڈاکٹر کا انتظام کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اصل ڈاکٹر (یعنی اللہ تعالیٰ جو شفا دینے والے ہیں) وہی ہیں، جنہوں نے مجھے بیمار کیا ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر ان سے پوچھا کہ کیا میں آپ کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اِس وقت مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شاید اس سے آپ کی بیٹیوں کو فائدہ پہنچے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو میری بیٹیوں کے بارے میں فقر وفاقہ کا اندیشہ ہے؟ میں نے انہیں ہر رات سورہ واقعہ پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ہر رات سورہ واقعہ پڑھے، وہ فقر سے محفوظ رہےگا۔ (اسد الغابہ 3/381)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી