
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:
یہاں تو کیا ہے! دنیا میں رکھا ہی کیا ہے! ایک آدمی جیسے خواب دیکھے: دو چار ادھر بیٹھیں، دو چار ادھر بیٹھیں، دو تین پیر دبا رہی ہیں، چاروں طرف پنکھے لگ رہے ہیں اور جیسے ہی آنکھ کھلی، تو دیکھا جیل کی کوٹھری میں پڑے ہیں۔
اسی طرح ایک آدمی (خواب میں) دیکھے: جیل میں پڑا ہے، کوڑے لگ رہے ہیں، مصیبتیں ہی مصیبتیں ہیں۔ جب آنکھ کھلے، دیکھے کچھ بھی نہیں، تو اللہ کا شکر ادا کرنے لگے کہ وہ تو خواب تھا، حقیقت نہ تھی۔
بس میرے دوستو! یہ دنیا کا حال تو خواب ہے۔ خواب سے جس دن آ نکھ کھلےگی، اس دن دیکھنا ہے کیا ہوگا! اہل مصائب کو جب آخرت میں ان کے مصائب کا بدلہ دیا جائےگا، تو راحت وآرام والے کہیں گے: کاش دنیا میں ہمارے بدن قینچی سے کتر دیئے جائے۔ (ملفوظاتِ حضرت شیخ رحمہ الله، حصہ اول، ص ۶۷-۶۸)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી