سئل سيدنا حذيفة رضي الله عنه عن أقرب الناس سمتا برسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ” كان أشبه الناس سمتا (في مشيه وتكلمه وغيرهما) ودلا (القصد في الأمور المختلفة) وهديا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن أم عبد (عبد الله بن مسعود رضي الله عنه) (مسند أحمد، الرقم: ٢٣٤٠٨، صحيح البخاري، الرقم: ٦٠٩٧)
ملاحظة: ذكر سيدنا حذيفة رضي الله عنه هذا بعد وفاة سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر رضي الله عنهما
ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
انہوں نے جواب دیا کہ (اس وقت) وہ آدمی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے آپ کے ظاہری افعال (یعنی چلنے پھرنے، بات کرنے وغیرہ) میں، آپ کے معتدل انداز میں (مختلف حالات میں) اور آپ کی طرز زندگی میں، وہ عبد اللہ بن مسعود ہیں۔
نوٹ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یہ بات فرمائی۔
قریش کے سامنے بلند آواز سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قرآن مجید کی تلاوت کرنا
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص تھے، جنہوں نے اسلام کے بعد قریش کے سامنے مکہ مکرمہ میں بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کی۔
ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! قریش نے اپنے سامنے کسی کو بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کبھی نہیں سنا، تو ہم میں سے کون تیار ہے کہ وہ ان کے سامنے جا کر بلند آواز سے قرآن پاک پڑھے؟
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں جاؤں گا اور ان کے سامنے بلند آواز سے قرآن پڑھوں گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ ہمیں آپ کی جان کا خوف ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا شخص ان کے سامنے جائے اور بلند آواز سے قرآن پڑھے، جس کا تعلق ایک طاقتو قبیلہ سے ہو، جو اس کی حفاظت کرےگا اگر قریش اس کو نقصان پہنچانا چاہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے جانے دو۔ اللہ میری جان کی حفاظت فرمائےگا۔
دوسرے دن صبح کے وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نکلے اور مقام ابراہیم پر پہنچے۔ اس وقت قریش وہاں اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے۔ انہوں نے پہلے بسم اللہ پڑھی، پھر سورہ رحمن کی تلاوت شروع کی۔
قریش نے ان کی تلاوت غور سے سنی، پھر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ابن ام عبد (یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کیا پڑھ رہے ہیں؟ ان میں سے کسی نے جواب دیا کہ وہ کچھ آیات پڑھ رہے ہیں، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لائے ہیں۔ یہ سن کر وہ کھڑے ہوئے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ان کے چہرے پر مارنے لگے۔ اس کے باوجود وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے، جتنی وہ تلاوت کر سکتے تھے۔
جب یہ سب ہو چکا، تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے پاس اس حالت میں واپس آئے کہ مار پیٹ کی وجہ سے ان کا چہرہ زخمی تھا۔
ان کو اس حالت میں دیکھ کر ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: ہمیں آپ کے بارے میں یہی ڈر تھا!
انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن اب میری نظر میں (اس واقعہ سے پہلے کی بنسبت) زیادہ بے وقعت ہیں (یعنی مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ وہ مجھے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، میں اب بھی ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہوں گا)۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کے سامنے جا کر قرآن مجید کی تلاوت کروں، تو میں کل دوبارہ ان کے سامنے جانے کے لیے تیار ہوں۔
ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا کہ اتنا کافی ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ کوئی انہیں خوبصورت انداز میں تلاوت سنائے اور آپ نے انہیں سنا کر یہ کام پورا کر دیا؛ لیکن ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اسے سننا ناپسند کرتے ہیں۔ (اسد الغابہ ۳/۳۸۱)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી