
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا امتحان
حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً نوے سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالی ان کو ایک بیٹا عطا کریں؛ تاکہ ان کے بیٹے ان کے مشن کو جاری رکھیں (یعنی ان کے بیٹے لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے رہیں)؛ لہذا اس عمر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے نوازا۔
کچھ عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے شیر خوار بچے کو لے کر جائیں اور ان کو مکہ مکرمہ کے صحراء میں چھوڑ دیں۔
اس وقت مکہ مکرمہ شہر نہیں تھا اور اس میں خانہ کعبہ بھی موجود نہیں تھا۔ وہ ایک بنجر زمین تھی، جہاں نہ پیڑ پودوں کا نام ونشان تھا، نہ پانی تھا، نہ کوئی رہنے کی جگہ تھی۔
اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں مکہ مکرمہ لے کر آئے اور انہیں اس بنجر زمین میں چھوڑ دیا۔
انہیں چھوڑ کر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام رخصت ہونے کے لیے مُڑے، تو ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں پکار کر کہا کہ آپ ہمیں یہاں تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالی نے آپ کو یہی حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں یہاں چھوڑ دیں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اشارہ سے بتایا کہ ہاں، یہ اللہ تعالی کا حکم ہے، تو اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ نے جواب دیا: تب تو اللہ تعالی ہمارے لیے انتظام کر لیں گے اور ہمیں ہلاک ہونے نہیں دیں گے۔
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل وعیال کا پختہ ایمان اور کامل یقین تھا اور یہ ان کی قربانی تھی، جو انہوں نے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کے لیے دی۔
اللہ تعالیٰ کو ان کی قربانی اس قدر پسند آئی کہ اللہ تعالی نے ان کو زمزم پانی کے جاری ہونے کا ذریعہ بنایا اور صفا ومروہ کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سعی کو قیامت تک کے لیے حج وعمرہ کے ارکان کا حصہ بنایا۔
بیٹے کو ذبح کرنے کا امتحان
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چھ یا سات سال کے ہو گئے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب کے ذریعے حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کریں۔
چوں کہ انبیاء کا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے؛ اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
یہ امتحان جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرنا پڑا، یہ ان کا آخری اور سب سے بڑا امتحان تھا۔ اس میں اس بات کا امتحان تھا کہ کیا وہ اللہ تعالی کے حکم کو پورا کریں گے یا اپنی دلی خواہش کو ترجیح دیں گے۔
یہ امتحان ایسا تھا کہ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹا عطا کیا تھا اور اب انہیں اس اکلوتے بچے کی قربانی کا حکم دیا جا رہا تھا۔
ہر والد کی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی اپنے بیٹے سے بہت زیادہ محبت تھی اور وہ اس کو اس دنیا میں اپنے ساتھ زندہ دیکھنا چاہ رہے تھے؛ لیکن یہ ان کی محبت تھی اور دوسرے طرف اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کا تقاضا یہ تھا کہ ان کی محبت اور خواہش کتنی بھی ہو ان کو چاہیئے کہ اس خواہش کو دبا کر اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں اس بچے کو قربان کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم کو اپنی دلی خواہش پر ترجیح دینے میں ایک لمحے کے لیے بھی دریغ نہیں کیا۔
ان تمام واقعات میں سے ہر ایک واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے ہر حکم کے سامنے اپنے آپ کو تسلیم کی تھی۔
البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ آرزو تھی کہ جیسے وہ الله کے حکم کی تعمیل کے لیے تیار ہیں، اسی طرح ان کے بیٹے بھی دل سے اللہ تعالی کے حکم کو تسلیم کریں اور وہ اس حکم کو پورا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
چناں چہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنا خواب بتایا اور ان سے پوچھا کہ اس معاملے میں ان کی کیا رائے ہے۔
چوں کہ اس کی پرورش اسلامی تعلیمات پر ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دل میں بسی ہوئی تھی؛ اس لیے اپنی کم عمری کے باوجود انہوں نے فورًا جواب دیا:
یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
اے میرے پیارے والد! ویسا کیجیے، جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے! ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے! (سورہ صفات، آیت: ۱۰۲)
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو زمین پر لٹایا اور اس کی گردن پر چھری رکھ دی۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں کیا گزر رہا ہوگا، ہم اُس کا اندازہ لگا سکتے ہیں؛ اس کے باوجود وہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنے پیارے بیٹے کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں باپ اور بیٹے کی قربانی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ﴿١٠٣﴾ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ ﴿١٠٤﴾ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿١٠٥﴾ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
جب دونوں (باپ اور بیٹے) اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھک گئے (اور تسلیم کی) اور انہوں نے ان کو پیشانی کے بل لٹا دیا (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹا دیا)، تو ہم نے انہیں پکارا کہ اے ابراہیم! تم کو خواب میں جو حکم دیا گیا تھا، اس کو تم نے پورا کر دیا۔ اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ (سورہ صفات، آیت: ۱۰۳-۱۰۶)
جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے اس عمل کو لفظ “اسلما” سے تعبیر کی ہے، جو کہ لفظ ’اسلام‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں باپ اور بیٹے نے اپنے دل وجان کو اللہ تعالی کے حکم کے سامنے تسلیم کی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کاٹنے کی کوشش کی؛ لیکن ان کی کوشش کے باوجود چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نہیں کاٹ رہی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا۔
اللہ تعالیٰ اس آزمائش اور امتحان کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
بے شک یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا (جس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حکم کے تسلیم کی)۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس امتحان میں کامیاب ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خانہ کعبہ کو تعمیر کرنے کا شرف بخشا، جو کہ قیامت تک ساری انسانیت کے لیے ہدایت کا مرکز ہے اور خانہ کعبہ کی تعمیر میں ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی ان کی مدد کی۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી