رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کرام کو حضرت عبد اللہ بن مسعود ‏سے قرآن مجید سیکھنے کا حکم ‎

خاطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الصحابة رضي الله عنهم فقال: خذوا القرآن من أربعة من عبد الله بن مسعود – فبدأ به -، وسالم مولى أبي حذيفة، ومعاذ بن جبل، وأبي بن كعب رضي الله عنهم (صحيح البخاري، الرقم: ٣٨٠٨)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا:

چار لوگوں سے قرآن کریم سیکھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سالم (یعنی ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام)، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اسلام             

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک نوجوان تھے، جو مکہ مکرمہ کے علاقے میں عُقبہ بن ابی مُعَیط کی بکریاں چرایا کرتے  تھے۔ ایک دن جب وہ بکریاں چرا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مشرکینِ مکہ سے بچ کر نکل رہے تھے۔

چوں کہ عربوں کا رواج تھا کہ مسافروں کو دودھ پلایا جاتا تھا؛ اس لیے بکریاں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دودھ مانگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے نوجوان! کیا تمہارے پاس کچھ دودھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، دودھ تو ہے؛ مگر یہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں؛ اس لیے میں تم کو دودھ نہیں دینا چاہتا ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس ایک بکری لاؤ، جس کا ابھی تک ملاپ نہیں ہوا ہے (یعنی وہ ابھی تک دودھ نہیں دے رہی ہے)؛ چناں چہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کم عمر بکری لے کر آئے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس بکری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دودھ مانگتے ہوئے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ جوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، اس کے تھن معجزانہ طور پر دودھ سے بھرنے لگے۔

پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھر لے کر آئے، جو برتن نما تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دودھ نکالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سب نے دودھ پیا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جانور کے تھنوں کو حکم دیا کہ وہ پہلے کی طرح ہو جائے؛ چناں چہ وہ فوراً پہلے کی طرح ہو گئے یعنی اس میں دودھ نہیں رہا۔

اپنی آنکھوں سے اس معجزہ کو دیکھ کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ مجھے وہ کلمات سکھا دیں، جو آپ نے اس وقت پڑھے تھے، جب آپ نے اس جانور سے دودھ نکالا تھا، جس کے تھنوں میں دودھ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا اور فرمایا:

يرحمك الله فإنك غليم معلم

اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! بے شک تم ایک ایسے نوجوان ہو، جو علم میں خوب ترقی کرےگا۔

ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی برکت مانگی۔

(صحیح ابن حبان، الرقم: ۶۵۰۴ ؛ مسند احمد، الرقم: ۴۴۱۲، ۳۵۹۸ ؛ مسند ابی یعلی، الرقم: ۵۰۹۶ ؛ البدایۃ والنہایۃ ۴/۸۱)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت مؤمرا أحدا (على جيش) من غير …