رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۴

درود وسلام بھیجنے کا فریضہ

حافظ عزالدین بن عبد السلام رحمۃ اللہ علیہ کا قول

حافظ عزالدین بن عبد السلام فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے  درود کوکسی بھی طرح ان کی شفاعت نہ سمجھا جائے ، کیوں کہ ہم ہر گز اس لائق نہیں ہیں کہ آپ کے حق میں شفاعت  کریں۔

در اصل اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے محسن کو ان کے احسانات اور انعامات کا بدلہ دیں۔ ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا کوئی محسن نہیں ہے ۔ ہم ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری دیکھ کر  ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کی ادائیگی کا صحیح طریقہ سکھایا اور وہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے ۔

چوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو صحیح طریقے سے ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی شان اور بلند مرتبہ کے مطابق درود بھیجیں ۔

علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد

علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ”شرح المواهب” میں لکھتے ہیں کہ درود پڑھنے کا اصل مقصد اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنا اور ان کے حکم کی تعمیل کرنا ہے (قرآن مجید میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا  ہے) نیز  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔

حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کا بیان

حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پوری زندگی سانسوں کی تعداد کے برابر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے  تو بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا نہیں کر سکے گا اور نہ ہی وہ اس عظیم نعمت کا حق ادا کر سکے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہمیں حاصل ہوئی یعنی دین اسلام۔

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۳

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ …