حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:
ابو جہل کا تکبر فرعون سے بھی بڑھا ہوا تھا کیونکہ فرعون تو مرتے وقت کچھ ڈھیلا بھی ہو گیا تھا؛ گو اس وقت اس کا ایمان مقبول نہ ہوا؛ لیکن ابو جہل نے تو مرتے وقت بھی یہ حسرت کی کہ کاش میرا قاتل کاشتکار نہ ہوتا؛ کیونکہ انصار کے ایک نوجوان لڑکے نے اس کو قتل کیا تھا۔ ان حضرات میں زیادہ کاشت کار ہوتے تھے۔
نیز میں نے اپنے استاد سے سنا تھا کہ جب ایک صحابی اس کی گردن کاٹنے لگے، تو اس نے یہ خواہش کی کہ میری گردن ذرا نیچے سے کاٹی جاوے؛ تاکہ جب مقتولین کے سر رکھے جاویں، تو میرا سر سب سے اونچا نظر آوے۔ کیا ٹھکانا ہے اس تکبر کا!
حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جس وقت اس کا سر کاٹ کر حاضر کیا گیا، تو آپ نے بھی فرمایا کہ مات فرعون هذه الأمة (اس امت کا فرعون مر گیا)۔
پھر حضرت اقدس رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آج کل بھی فرعون دماغ رکھنے والے موجود ہیں۔ (ملفوظاتِ حکیم الامّت، ج ۱۰، ص ۵۵)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી