حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور میرے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ! ان کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیے اور ان کو قرآن کا علم عطا کیجیے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا عظیم علم

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد میں نے اپنے ایک انصاری دوست سے کہا کہ آؤ، ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس جا کر (علمِ دین) سیکھیں؛ کیوں کہ ابھی تک صحابہ کرام کی بڑی جماعت ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! اللہ کی قسم! مجھے تعجب ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگ (دینی معاملات میں) تمہاری طرف رجوع کریں گے؛ حالاں کہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمارے درمیان موجود ہیں۔

اپنے دوست کی اس بات کے باوجود حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کسی بھی طرح علمِ دین کے حصول سے باز نہ آئے۔ وہ فرماتے ہیں:

بل کہ میں نے علمِ دین کی طلب جاری رکھی اور ہر صحابی (جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنی تھیں) ان کے پاس جانے لگا۔

اس طرح کرنے سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سا علم حاصل کر لیا۔

وہ مزید فرماتے ہیں:

اگر میں کسی صحابی سے ملاقات کے لیے جاتا اور انہیں آرام کرتا ہوا پاتا، تو میں ان کے گھر کے چوکھٹ پر اپنی چادر رکھ کر بیٹھ جاتا اور ان کے گھر سے باہر آنے کا انتظار کرتا۔ کبھی کبھار ان کے گھر کے باہر انتظار کرتے ہوئے میرا چہرہ اور پورا جسم خاک آلود ہو جاتا۔

اس کے باوجود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما علمِ دین کے حصول سے باز نہیں آئے اور صحابی کے نکلنے تک انتظار کرتے رہتے۔ وہ فرماتے ہیں:

جب وہ صحابی آرام کرنے کے بعد گھر سے باہر نکلتے اور مجھے دیکھتے، تو وہ کہتے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی! آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں! آپ میرے پاس پیغام بھیج دیتے، تو میں آپ کے پاس آ جاتا!

یہ سن کر میں جواب دیتا: نہیں! میرے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں؛ (چوں کہ میں طالب علم ہوں اور آپ استاد ہیں)!

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسی طرح علمِ دین حاصل کرتے رہے؛ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا کہ لوگ علمِ دین سیکھنے کے لیے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آنے لگے۔ وہ فرماتے ہیں:

میرا انصاری دوست اس وقت تک زندہ رہا؛ یہاں تک کہ اس نے دیکھا کہ لوگ میرے پاس علمِ دین حاصل کرتے ہیں، (اس وقت اس کو معلوم ہوا کہ جو میں نے کیا تھا، وہ بہتر تھا)؛ چناں چہ اس نے کہا کہ یقینًا یہ شخص مجھ سے زیادہ ہوشیار تھا۔ (مستدرک حاکم، الرقم: ۳۶۳)

Check Also

موت کے وقت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا خوف

لما حضرت سيدنا معاذا رضي الله عنه الوفاة، جعل يبكي، فقيل له: أتبكي (لا حاجة …