سوال: سوال: میں اپنے دوست سے کچھ خریدنے گیا تھا۔ اس نے مجھے سامان دے دیا اور مجھ سے کہا کہ بعد میں وہ مجھ سے قیمت کے متعلق بات کرےگا۔ اس بیع کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر یہ بیع درست نہیں ہے، تو اس کو صحیح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
الجواب حامدًا ومصلیًا
بیع کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ بیع کے وقت مبیع (سامان) متعین کر دیا جائے اور اس کی قیمت بھی باہمی رضامندی سے متعین کر کے طے کر لی جائے۔
صورت مسئولہ میں، چوں کہ آپ دونوں نے سامان کی کوئی قیمت متعین نہیں کی؛ اس لیے اس طرح کی بیع فاسد بیع کہلاتی ہے۔ آپ دونوں کو چاہیئے کہ قیمت کو آپس میں متعین کریں اور اس کے بعد دوبارہ بیع کا اعادہ کریں۔
فقط واللہ تعالی اعلم
(وفسد) بيع (ما سكت) أي وقع السكوت (فيه عن الثمن) كبيعه بقيمته (الدر المختار 5/60)
قال ابن عابدين – رحمه الله تعالى -: (قوله: ما سكت فيه عن الثمن) لأن مطلق البيع يقتضي المعاوضة فإذا سكت كان غرضه القيمة فكأنه باع بقيمته فيفسد ولا يبطل درر أي بخلاف ما إذا صرح بنفي الثمن كما قدمه قريبا (رد المحتار 5/60)
وأما شرائط الصحة فعامة وخاصة فالعامة لكل بيع ما هو شرط الانعقاد لأن ما لا ينعقد لم يصح ولا ينعكس فإن الفاسد عندنا منعقد نافذ إذا اتصل به القبض … ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة إلخ (الفتاوى الهندية 3/3)
دار الافتاء، مدرسہ تعلیم الدین
اسپنگو بیچ، ڈربن، جنوبی افریقہ
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી