
لما حضرت سيدنا معاذا رضي الله عنه الوفاة، جعل يبكي، فقيل له: أتبكي (لا حاجة أن تخاف) وأنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت وأنت (أي: لك كذا وكذا من الفضائل)
فقال: ما أبكي جزعا من الموت إن حل بي ولا دنيا تركتها بعدي، ولكن إنما هما القبضتان (أي: طائفتان من خلق الله عزّ وجلّ)، قبضة في النار وقبضة في الجنة فلا ادري في أي القبضتين أنا (تاريخ دمشق 58/450)
جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا، تو وہ رونے لگے۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ (یعنی آپ کو ڈرنے اور فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے)؛ کیوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کے اندر ایسی ایسی خوبیاں ہیں۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نہ موت کے ڈر سے رو رہا ہوں اور نہ کسی دنیوی مال کے کھو جانے کی وجہ سے رو رہا ہوں؛ بلکہ میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ (اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے اندر) دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ جہنم میں جائےگا اور دوسرا گروہ جنت میں جائےگا اور میں نہیں جانتا ہوں کہ میں کس گروہ میں سے ہوں گا۔ (تاریخ ابن عساکر ۵۸/۴۵۱)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا تہجد کی نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کا معمول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کے ایک حصے پر حاکم بنا کر بھیجا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کے دوسرے حصے پر حاکم بنا کر بھیجا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھیجنے سے پہلے درج ذیل نصیحت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرو، ان کے ساتھ سختی نہ کرو، (لوگوں کو) خوشخبری دو اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرو، جس سے ان کے دل میں دین کے لیے نفرت پیدا ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، اس کے بعد حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔
یمن میں رہتے ہوئے یہ دونوں صحابہ ایک دوسرے سے ملنے آتے تھے، خاص طور پر جب وہ ایک دوسرے کے علاقوں سے گزرتے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاقے سے گزر رہے تھے، تو آپ ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ ملاقات کے بعد وہ دونوں بیٹھ گئے اور اپنے روزانہ کے قرآن مجید کی تلاوت کے معمول کے متعلق مذاکرہ کرنے لگے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے عبد اللہ (ابو موسیٰ)! قرآن مجید کی تلاوت کے بارے میں روزانہ آپ کا معمول کیا ہے؟
انہوں نے جواب دیا کہ مجھے (رات اور دن میں) قرآن مجید کی تلاوت کے لیے جو بھی وقت ملتا ہے، میں اس میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں۔
پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے معاذ! قرآن مجید کی تلاوت کے بارے میں روزانہ آپ کا معمول کیا ہے؟
انہوں نے جواب دیا: میں رات کے پہلے حصے میں سوجاتا ہوں، پھر میں اپنی نیند پوری کر کے اٹھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے لیے جتنا قرآن مجید پڑھنا مقدر فرمائے، میں اتنا پڑھتا ہوں۔
جیسا میں اللہ تعالیٰ سے نماز پڑھنے پر ثواب کی امید رکھتا ہوں، اسی طرح میں اپنے سونے پر بھی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں (کیوں کہ یہ سونا قوّت اور نشاط حاصل کرنے کے لیے ہے؛ تاکہ بعد میں، میں اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کر سکوں گا)۔ (صحیح البخاری، الرقم: 4341)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી