موت کے وقت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا خوف

جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا ، تو رونے لگے۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ  کیوں رو رہے ہیں (آپ کے لیے ڈرنے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے) کیوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں  اور آپ  میں فلاں فلاں خوبیاں ہیں؟

انہوں نے جواب دیا کہ میں موت کے ڈر یا کسی دنیوی مال کے کھوجانے سے نہیں رو رہا ہوں ۔  البتہ میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ (اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ) دو گروہ ہیں، ایک گروہ جہنم میں ہوگا اور ایک گروہ جنت میں ہوگا، اور میں نہیں جانتا کہ میں کس گروہ میں سے ہوں گا۔ (تاریخ ابن عساکر 58/451)

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنھایہ میں لکھا  ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  یمن بھیجا تھا ، تو انہیں کئی عہدے اور ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ انہیں لوگوں کا قاضی بنایا گیا تھا ۔ وہ جنگ میں ان کے رہنما تھے۔ وہ ان کی زکوٰۃ جمع کرنے والے تھے اور وہ  پانچوں نمازوں میں لوگوں کی امامت فرماتے تھے ۔

حضرت ابوبردہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان میں سے ہر ایک کو یمن کے ایک حصے کا گورنر مقرر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کے لیے (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرو ، ان کے ساتھ سختی نہ کرو ، (لوگوں کو) خوشخبری دو اور ایک دوسرے سے تعاون کرو اور اختلاف نہ کرو۔

اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یمن کی طرف روانہ ہوئے۔ جب بھی ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے علاقے سے گزرتا تو وہ اس کے پاس آتا ۔

چناں چہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاقے کے قریب گزر رہے تھے کہ آپ نے ان سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ وہ اپنے خچر پر سوار ہو کر آئے ۔  آپ نے ان کو کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا پایا۔ ان کے پاس ایک آدمی بھی تھا جس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا نام ) اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟

انہوں نے جواب دیا:  یہ وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو گیا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک وہ قتل نہ ہو جائے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو اسی مقصد کے لیے یہاں لایا گیا ہے ۔ آپ اتر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک کہ اس کو قتل نہ کردیا جائے ۔ چناں چہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کو قتل کردیا گیا ۔ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے اترے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کہ اے عبداللہ! تم قرآن مجید کی تلاوت کتنی کرتے ہو ؟ تمہاری کیا عادت ہے؟

انہوں نے جواب دیا : میں اس کو حصوں میں پڑھتا ہوں، ایک وقت میں ایک حصہ ۔

پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے  پوچھا :  اے معاذ تم  کیسے پڑھتے ہو؟

انہوں نے جواب دیا: میں رات کے پہلے حصے میں سوجاتا ہوں، پھر میں اپنی نیند پوری کر کے اٹھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر فرض کیا ہے اسے پڑھتا ہوں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنی نیند کے لیے اسی طرح ثواب کی امید رکھتا ہوں جس طرح نماز کے لیے قیام سے ثواب کی امید رکھتا ہوں۔

Check Also

بندوں پر اللہ تعالٰی کا حق

ذات مرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لسيدنا معاذ رضي الله عنه: هل …