یہ سلوک جو ہے بہت ہی آسان ہے

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ کچھ فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ سے ارشاد فرمایا:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیّتِهِ (تم میں سے ہر ایک چرواہا ہے اور اس سے اس کے ریوڑ کے متعلق سوال ہوگا)، یہ حدیث ہے۔ دیکھو! میرے دوستو! کوشش کرتے رہا کرو، تم کو کوشش کا ثواب تو ضرور ملتا ہی رہےگا۔

دیکھو! تم ہی تو ہادیانِ امت کہلاؤ، مُصلِحانِ قوم کہلاؤ، عنقریب فارغ التحصیل ہونے والے ہو، عملاً تم یہ کہوگے کہ ہم ہی وارثانِ نبی ہیں۔ اگر تمہارے ہی گھر سے جہالت، گمراہی نکلنے لگے، تو پھر امت کو دین کہاں سے ملےگا۔

تم لوگ یہاں سلوک کی تکمیل کے لئے آئے ہو، یہ سلوک جو ہے بہت ہی آسان ہے۔

راہ خدا از دو قدم دور نیست

اللہ کی قسم! یہ تصوف کا راستہ دو قدم پر ہے۔ ایک قدم نفس پر، دوسرا مقام (منزل مقصود) پر۔ (ملفوظاتِ حضرت شیخ رحمہ الله، حصہ اول، ص ۱۰۱-۱۰۲)

Check Also

اصلاح کی نیت سے وعظ دیکھنے کی ضرورت

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ایک صاحب کا …