رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۲

پختہ ایمان اور کامل یقین کا فریضہ

دوسرا فریضہ یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا ایمان رکھیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے، ہم اپنے دلوں سے اس کو قبول کریں۔

قریش کے بہت سے لوگ ایسے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچّی محبت کرتے تھے؛ یہاں تک کہ انہوں نے تین سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بائیکاٹ کی سختیاں بھی برداشت کیں؛ لیکن وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے اور آپ کے دین کو قبول نہیں کیا؛ اس لیے انہیں نجات نہیں ملی اور وہ کفر پر انتقال کر گئے۔

لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر ضروری ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر پورا یقین رکھے۔

علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ انسان کے دل میں جو محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، انسان کو چاہیئے کہ وہ اس محبت کو عقیدت کے درجے تک پہنچانا چاہیئے۔

عقیدت سے مراد یہ ہے کہ انسان یہ ایمان اور یقین رکھے کہ تمام لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے بڑے محسن اور خیرخواہ ہیں اور ہر امر جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا ہے، وہی حق ہے اور وہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اسی طرح وہ کسی دوسرے شخص کے حکم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے برابر نہ سمجھے۔

اطاعت کا فریضہ

تیسرا فریضہ یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اطاعت کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی تعلیمات پر پورا اعتماد اور عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ) ہر انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اطاعت کرے۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عقیدت ومحبت کے اعلی درجے انسان کے دل میں پیدا ہو جائے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کے اعلی درجے خود بخود انسان کی زندگی میں حاصل ہو جائےگی۔ اس کے بعد انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کے مطابق گزارےگا اور وہ امت تک آپ کی مبارک سنتوں کو پہنچانے کی بے حد کوشش کرےگا۔

جب ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور اطاعت کا اعلی ترین درجہ عطا فرمایا تھا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری صاحب زادی تھیں۔ اس کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو محبت اور عقیدت تھی، وہ سب سے اعلیٰ اور انتہائی درجے کی محبت اور عقیدت تھی۔

اس کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دلیل اس حدیث سے بخوبی معلوم کی سکتی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ مجھ سے ہیں۔ جو ان کو تکلیف دیتا ہے، وہ مجھ کو تکلیف دیتا ہے۔

اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت کی دلیل اس حدیث سے سمجھی جا سکتی ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ جنت کی ساری عورتوں کی سردار ہیں۔

لیکن حضرت فاطمہ کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس قدر محبت اور عقیدت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ نصیحت فرمائی کہ اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو، اس دنیا میں مجھ سے مانگ لو؛ لیکن میں اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا (یعنی اگر تم میری اتباع نہیں کروگی اور میری تعلیمات پر عمل نہیں کروگی، تو میں تمہیں آخرت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا)۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں اور ہماری زندگی میں آپ کی تمام سنتوں پر عمل کریں۔

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق – ۳

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ …