پختہ ایمان اور یقین کامل

دوسرا فریضہ  یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پختہ ایمان رکھیں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھے بتایا ہے ، ہم  اسے دل سے قبول کریں۔ قریش کے بہت سے لوگ ایسے تھے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حد تک محبت کرتے تھے کہ تین سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  مقاطعہ( بائیکاٹ ) کی پریشانیں جھیلیں،  لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے  اور آپ کے دین کو قبول نہیں کیا۔ اس لیے وہ  کفر پر دنیا سے رخصت ہوئے اور انہیں نجات نہیں ملی ۔ لہٰذا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر پورا بھروسہ رکھنا لازم ہے ۔

علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ ہر شخص کو حضرت رسول اللہ ﷺ سے  محبت  کو  عقیدے کا جز سمجھنا چاہیے یعنی یہ عقیدہ رکھنا چاہیے  کہ حضرت رسول اللہ ﷺ اس کے سب سے بڑے محسن ہیں اور ہر وہ امر جس کا حضرت رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا ہے وہ سراسر حق اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اسی طرح وہ کسی شخص کے حکم کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے برابر نہ سمجھے ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے اوپر تیسرا حق یہ ہے کہ ہم ان کی مکمل اطاعت کریں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت  اور آپ کی تعلیمات پر مکمل اعتماد اور بھروسے کے ساتھ ساتھ ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اطاعت کرے ۔ جب انسان عقیدت و محبت  کے اعلی درجے پر فائز ہوگا ،  تو اس کو خود بخود اطاعت و فرمانبرداری کا اعلی درجہ  حاصل ہو گا ۔  اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ شخص  اپنی زندگی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزارے گا اور اس کو امت تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

جب ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں ایمان،   محبت،  اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اعلی ترین درجہ عطا کیا تھا ۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری صاحب زادی تھیں۔ ان کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  محبت اور عقیدت کا  بلند ترین درجہ حاصل تھا ۔

 آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت کا ثبوت اس حدیث سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  فاطمہ میرا حصہ ہے، جس نے اسے تکلیف پہنچائی ،  اس نے مجھے تکلیف پہنچائی  ۔ اسی طرح ان کی عقیدت کی دلیل اس حدیث سے  سمجھی جا سکتی ہے جس میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “فاطمہ(  رضی اللہ عنہا) جنت میں عورتوں کی سردار ہے۔

 حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت اور عقیدت  کے باوجود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ نصیحت فرمائی کہ اے فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگو، کیوں کہ میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ( اگر تم میری تعلیمات پر عمل نہیں کروگی ، تو میں تمہیں آخرت میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا )

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت  کے ساتھ ان کی اطاعت بھی ضروری ہے۔

Check Also

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق

اگر ہم اپنی زندگی میں حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے احسانات کا …