فضائلِ اعمال – ۳۹

حضرت علی بن معبد رحمۃ اللہ علیہ کا کرایہ کے مکان سے تحریر کو خشک کرنا

علی بن معبد رحمۃ اللہ علیہ ایک محدث ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔

ایک مرتبہ میں نے کچھ لکھا اور اس کو خشک کرنے کے لیے مٹی کی ضرورت ہوئی۔ کچی دیوار تھی، مجھے خیال آیا کہ اس پر سے ذرا سی کھرچ کے تحریر پر ڈال لوں، پھر خیال آیا کہ مکان کرایہ کا ہے (جو رہنے کے واسطے کرایہ پر لیا گیا، نہ مٹی لینے کے واسطے)؛ مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اتنی ذرا سی مٹی میں کیا مضائقہ ہے، معمولی چیز ہے۔

میں نے مٹی لے لی اور رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک صاحب کھڑے ہیں، جو یہ فرما رہے ہیں کہ کل قیامت کو معلوم ہوگا، یہ کہنا کہ معمولی مٹی کیا چیز ہے؟

ف: “کل معلوم ہوگا” کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ تقوی کے درجات بہت زیادہ ہیں۔ کمال درجہ یہ یقینًا تھا کہ اس سے بھی احتراز کیا جاتا؛ اگر چہ عرفًا معمولی چیز شمار ہونے سے جواز کی حد میں تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قبر پر گذر

کُمَیل رحمۃ اللہ علیہ ایک شخص ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے ساتھ ایک مرتبہ جا رہا تھا۔ وہ جنگل میں پہنچے، پھر ایک مقبرہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

اے مقبرہ والو! اے بوسیدگی والو! اے وحشت اور تنہائی والو! کیا خبر ہے؟ کیا حال ہے؟

پھر ارشاد فرمایا کہ ہماری خبر تو یہ ہے کہ تمہارے بعد اموال تقسیم ہو گئے۔ اولادیں یتیم ہو گئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کر لیے۔ یہ تو ہماری خبر ہے، کچھ اپنی تو کہو۔

اس کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کمیل! اگر ان لوگوں کو بولنے کی اجازت ہوتی اور یہ بول سکتے، تو یہ لوگ جواب میں یہ کہتے کہ بہترین توشہ تقوی ہے۔

یہ فرمایا اور پھر رونے لگے اور فرمایا: اے کمیل! قبر عمل کا صندوق ہے اور موت کے وقت بات معلوم ہو جاتی ہے۔

ف: یعنی آدمی جو کچھ اچھا یا برا کام کرتا ہے، وہ اس کی قبر میں محفوظ رہتا ہے؛ جیسا کہ صندوق میں۔

متعدد احادیث میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ نیک اعمال اچھے آدمی کی صورت میں ہوتے ہیں، جو میت کے جی بہلانے اور اُنس پیدا کرنے کے لیے رہتا ہے اور اس کی دل داری کرتا ہے اور بُرے اعمال بُری صورت میں بد بودار بن کر آتے ہیں، جو اور بھی اذیت کا سبب ہوتا ہے۔

ایک حدیث میں وارد ہے کہ آدمی کے ساتھ تین چیزیں قبر تک جاتی ہیں: اس کا مال (جیسا کہ عرب میں دستور تھا)، اس کے رشتہ دار اور اعمال۔ دو چیزیں مال اور رشتہ دار دفن کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری مثال اور تمہارے اہل وعیال اور مال واعمال کی مثال کیا ہے؟

صحابہ رضی اللہ عنہم کے دریافت فرمانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص کے تین بھائی ہوں اور وہ مرنے لگے۔ اس وقت ایک بھائی کو وہ بلائے اور پوچھے کہ بھائی! تجھے میرا حال معلوم ہے کہ مجھ پر کیا گذر رہی ہے؟ اس وقت تو میری کیا مدد کرےگا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ تیری تیمار داری کروں گا، علاج کروں گا، ہر قسم کی خدمت کروں گا اور جب تو مر جائےگا، تو نہلاؤں گا، کفن پہناؤں گا اور کندھے پر اٹھا کر لے جاؤں گا اور دفن کے بعد تیرا ذکر خیر کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھائی تو اہل وعیال ہیں۔

پھر وہ دوسرے بھائی سے یہی سوال کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میرا تیرا واسطہ زندگی کا ہے۔ جب تو مر جاوےگا، تو میں دوسری جگہ چلا جاؤں گا۔ یہ بھائی مال ہے۔

پھر وہ تیسرے بھائی کو بلا کر پوچھتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں قبر میں تیرا ساتھی ہوں، وحشت کی جگہ تیرا دل بہلانے والا ہوں۔ جب تیرا حساب کتاب ہونے لگے، تو نیکیوں کے پلڑے میں بیٹھ کر اس کو جھکاؤں گا۔ یہ بھائی عمل ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب بتلاؤ! کون سا بھائی کارآمد ہوا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہی بھائی کارآمد ہے۔ پہلے دونوں تو بے فائدہ ہی رہے۔ (فضائل اعمال، حکایاتِ صحابہ، ص ۷۰-۷۲)

Check Also

فضائلِ صدقات – ۳۱

حضرت لیث ابن سعد رحمہ اللہ کی سخاوت ہارون الرشید رحمہ اللہ نے پانچ سو …