
حضرت علی بن معبد رحمۃ اللہ علیہ کا کرایہ کے مکان سے تحریر کو خشک کرنا
علی بن معبد رحمۃ اللہ علیہ ایک محدث ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔
ایک مرتبہ میں نے کچھ لکھا اور اس کو خشک کرنے کے لیے مٹی کی ضرورت ہوئی۔ کچی دیوار تھی، مجھے خیال آیا کہ اس پر سے ذرا سی کھرچ کے تحریر پر ڈال لوں، پھر خیال آیا کہ مکان کرایہ کا ہے (جو رہنے کے واسطے کرایہ پر لیا گیا، نہ مٹی لینے کے واسطے)؛ مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اتنی ذرا سی مٹی میں کیا مضائقہ ہے، معمولی چیز ہے۔
میں نے مٹی لے لی اور رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک صاحب کھڑے ہیں، جو یہ فرما رہے ہیں کہ کل قیامت کو معلوم ہوگا، یہ کہنا کہ معمولی مٹی کیا چیز ہے؟
ف: “کل معلوم ہوگا” کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ تقوی کے درجات بہت زیادہ ہیں۔ کمال درجہ یہ یقینًا تھا کہ اس سے بھی احتراز کیا جاتا؛ اگر چہ عرفًا معمولی چیز شمار ہونے سے جواز کی حد میں تھا۔ (فضائل اعمال، حکایاتِ صحابہ، ص ۷۰)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી