قبل أن بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سيدنا معاذا رضي الله عنه إلى اليمن وزيرا، كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أهل اليمن: “إني قد بعثت إليكم من خير أهلي، والي علمهم، والي دينهم (أي: يعلّمهم دينهم ويرشدهم في دينهم) (مرآة الزمان 5/297)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک خط لکھا، جس میں درج ذیل باتیں تحریر کیں :
بے شک میں نے آپ کے پاس اپنی امت کے بہترین لوگوں میں سے ایک کو بھیجا ہے۔ انہیں آپ لوگوں کو دینی تعلیم دینے اور دینی رہنمائی کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت الوداعی نصیحت
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کا گورنر بنا کر انہیں دین کی تعلیم دینے کے لیے بھیج رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رخصت کرنے کے لیے مدینہ منورہ کے مضافات تک آئے ۔ آپ ان کے ساتھ چل رہے تھے اور انہیں نصیحت کررہے تھے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نیک اعمال کرنے کا حکم دیا اور کچھ چیزوں سے بچنے کا حکم فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
“اے معاذ! میں تمہیں اس طرح نصیحت کرتا ہوں جس طرح ایک مخلص اور ہمدرد بھائی اپنے بھائی کو نصیحت کرتا ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ اللہ سے ڈرو، سچ بولو، اپنا وعدہ پورا کرو، جو امانت تمہیں دی گئی ہو، اسے مکمل کرو، خیانت اور دھوکہ دہی سے باز رہو، یتیموں پر رحم کرو، پڑوسی کے حقوق ادا کرو ، ہمیشہ عاجزی اختیار کرو۔ جن سے بھی آپ ملیں، شائستگی سے بات کریں، ایمان پر ثابت قدم رہیں، قرآن میں گہرائی سے غور کریں (اور اس پر صحیح طریقے سے عمل کریں)، آخرت کی محبت (اپنے دل میں) پیدا کریں، (قیامت کے دن اللہ کے سامنے) حساب و کتاب سے ڈریں، دنیوی خواہشات کو روکیں اور نیک خواہشات میں اضافہ کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہیں کسی بھی مسلمان کی توہین ، سچوں کی تکذیب، جھوٹوں کی تصدیق اور عادل حکمراں کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں جو تم پر مقرر کیا گیا ہو ( زندگی میں جب بھی جب تم پر کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے ، تو اس کی نافرمانی مت کرنا )
’’اے معاذ! ہر پتھر اور ہر درخت کے پاس ( گزرتے ہوئے ) اللہ کو یاد کرو اگر تم سے (انسانی کمزوری کی وجہ سے) کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کر کے اس کی اصلاح کرو۔ اگر تنہائی میں گناہ سرزد ہو جائے تو تنہائی میں توبہ کرو اور اگر علی الاعلان گناہ ہوجائے ، تو علی الاعلان سب کے سامنے توبہ کرو ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ہمیشہ بیماروں کی عیادت کرو، بیواؤں اور کمزور مسلمانوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں جلدی کرو، غریبوں اور مسکینوں کی صحبت میں رہو، لوگوں کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آؤ خواہ اس کا تعلق آپ ہی سے کیوں نہ ہو ( اس کا تعلق آپ کے حقوق سے ہی کیوں نہ ہو)، ہمیشہ حق بات کرو اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی شخص کی پرواہ نہ کرو ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو رخصت کرنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ شاید تم اس سال کے بعد مجھ سے نہ مل پاؤ (دوسرے لفظوں میں یہ ہماری آخری ملاقات ہے) ہو سکتا ہے (جب تم مدینہ واپس آؤ گے تو) تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہونے والی ہے اور اس کے بعد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ سن کر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ٹوٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے تھے، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک مدینہ منورہ کی طرف پھیر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دی اور فرمایا: بے شک مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو تقویٰ ( اپنی زندگی میں اللہ کا خوف) رکھتے ہیں، وہ چاہے کوئی بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔ (مسند احمد 22052)
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ اگر تم تقوی اختیار کروگے اور میری سنت پر قائم رہوگے تو کسی اور ملک میں دور رہنے کے باوجود بھی تم مجھ سے قریب رہو گے ۔ اس کے برعکس، اگر تم میرے قریب رہو (مثلاً مدینہ منورہ میں)، لیکن تم اپنی زندگی میں تقوی اختیار نہ کرو اور سنت پر عمل نہ کرو ، تو اگرچہ تم جسمانی طور پر میرے قریب ہو لیکن حقیقت میں تم مجھ سے دور ہو ۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી