حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے خوبصورت اوصاف‎ ‎

ذات مرة، أثنى سيدنا جابر رضي الله عنه على سيدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه فقال: كان معاذ بن جبل من أحسن الناس وجها، وأحسنهم خلقا، وأسمحهم كفا (السنن الكبرى، الرقم: ١١٢٧١)

ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

معاذ بن جبل لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے، بہترین اخلاق کے حامل تھے اور سب سے زیادہ سخی تھے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے خوبصورت اوصاف

فروہ بن نوفل بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتگو کی اور ان کی عمدہ صفات کی بہت زیادہ تعریف کی۔ انہوں نے کہا:

إن معاذا كان أمة قانتا لله حنيفا

معاذ (بن جبل) ایک امت تھے (یعنی وہ رہنما تھے، جو دوسروں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے تھے)، جب کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں پوری طرح منہمک تھے اور وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہتے تھے، بغیر کسی انحراف کے۔

فروہ بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ نے جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی اتنی بڑی تعریف سنی تو حیران رہ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ شاید عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی تعریف میں) غلطی ہوگئی  ہے، کیوں کہ قرآن مجید میں اس طرح کا تعریفی لفظ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے وارد ہوا ہے ) ۔ چناں چہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إن إبراهيم كان أمة قانتا لله حنيفا

غالباً حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ فروہ بن نوفل متعجب ہیں ، تو آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ “امت” اور “قانت ” سے کیا مراد ہے (جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف میں بھی ذکر کیا گیا ہے) ؟

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پھر مجھ سے فرمایا کہ امت سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو نیکی سکھائے (اور ان کی دین کی طرف رہنمائی کرے) اور قانت سے مراد وہ شخص ہے جو ہر وقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع و فرماں بردار ہو۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان اوصاف کے حامل تھے ، کیوں کہ ان کو ہمیشہ  لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہوئے دیکھا گیا اور وہ خود بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطیع اور فرمانبردار تھے ۔

یہ الفاظ کہتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فروہ بن نوفل کے سامنے بیان کیا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان دو خوبیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مشابہت رکھتے تھے ، لہذا وہ اس کے مستحق تھے کہ ان دونوں اوصاف جلیلہ کے ذریعے ان کی تعریف کی جائے ۔

Check Also

قیامت کے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا علماء کے امام ہونا

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: معاذ بن جبل يجيء يوم القيامة أمام العلماء …