فضائلِ اعمال – ۳۸

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صدقہ کے دودھ سے قے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دودھ نوش فرمایا کہ اس کا مزہ کچھ عجیب سا، نیا سا معلوم ہوا۔

جن صاحب نے پلایا تھا، ان سے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کیسا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟

اُنہوں نے عرض کیا کہ فلاں جنگل میں صدقہ کے اونٹ چر رہے تھے کہ میں وہاں گیا، تو اُن لوگوں نے دودھ نکالا، جس میں سے مجھے بھی دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منہ میں ہاتھ ڈالا اور سارے کا سارا قے فرما دیا۔

ف: ان حضرات کو اس کا ہمیشہ فکر رہتا تھا کہ مشتبہ مال بھی بدن کا جزو نہ بنے؛ چہ جائے کہ بالکل حرام جیسا کہ ہمارے اس زمانہ میں شائع ہو گیا۔ (فضائل اعمال، حکایات صحابہ، ص ۶۹)

Check Also

فضائلِ صدقات – ۳۰

عبد الحمید بن سعد رحمہ اللہ کی سخاوت ایک مرتبہ مصر میں قحط پڑا۔ عبد …