حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے قرآن مجید کا علم

ذات مرة، أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الصحابة رضي الله عنهم قائلا: استقرئوا القرآن من أربعة. ومن هؤلاء الأربعة الذين ذكرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم سيدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه (من صحيح البخاري، الرقم: ٣٨٠٦)

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:

قرآن کریم کو چار آدمیوں سے سیکھو۔ ان چار آدمیوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا نام ذکر فرمایا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا عظیم علم

حضرت ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

میں حِمص کی مسجد میں داخل ہوا اور لوگوں کا مجمع دیکھا، اس مجمع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتیس صحابہ کرام موجود تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بیان کر رہے تھے۔

اس مجلس میں ایک نوجوان تھے، جن کی آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا تھا اور جن کے دانت چمک دار تھے۔ وہ چادر میں لپیٹے ہوئے بیٹھے تھے۔ جب بھی اس مجلس کے لوگوں میں کسی بات میں اختلاف ہوتا، تو وہ لوگ اس نوجوان کی طرف رجوع کرتے اور وہ ان کی بات کو آخری بات مانتے اور اسے قبول کرتے۔

بعض روایات میں آیا ہے کہ ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔

حضرت ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:

اگلی صبح، میں مسجد گیا اور دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے قریب نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کے قریب نماز شروع کی۔ جب انہوں نے سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کی، تو میں ان کے پاس جا کر اتنا قریب بیٹھ گیا کہ ہمارے درمیان صرف ایک ستون حائل تھا۔ کچھ دیر ہم خاموش بیٹھے رہے، پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: اے معاذ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں آپ کی محبت ہے۔ میری یہ محبت کسی دنیاوی فائدے یا منفعت کے حصول کے لیے نہیں ہے اور نہ یہ محبت ہمارے درمیان کسی خاندانی یا رشتہ داری کے تعلق کی وجہ سے ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے دل میں میرے لیے محبت کیوں ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میرے دل میں آپ کی جو محبت ہے، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا واقعی صرف اسی وجہ سے آپ کے دل میں میری محبت ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم (صرف یہی وجہ ہے)۔

انہوں نے پھر مجھ سے پوچھا: اللہ کی قسم! کیا واقعی صرف یہی وجہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم (واقعی صرف یہی وجہ ہے)۔

اس کے بعد حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر آپ کے دل میں میری محبت کی صرف یہی وجہ ہے، تو آپ کے لیے خوشخبری ہے؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

میری محبت ان دو آدمیوں کے لیے واجب ہو جاتی ہے، جو صرف میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں (یعنی اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ ان دو آدمیوں سے محبت کرتے ہیں اور ان سے خوش ہوتے ہیں)۔ ان لوگوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے (قیامت کے دن)۔ وہ عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے اور ان پر انبیاء علیہم السلام اور صدّیقین بھی رشک کریں گے۔ (مسند احمد، الرقم: ۲۲۲۷۶ ؛ ۲۲۰۳۰)

نوٹ: اگرچہ انبیائے کرام علیہم السلام اور صدّیقین کا درجہ اور ثواب ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ بلند ہوگا؛ لیکن انبیاء وصدّیقین ان لوگوں کے ثواب دیکھ کر خوشی کا اظہار کریں گے، جو اللہ تعالیٰ اپنی محبت کی بنا پر ان لوگوں کو ایک دوسرے سے تعلق کرنے پر عطا فرمائیں گے۔

Check Also

قیامت کے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ علماء کے امام ہوں گے

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: معاذ بن جبل يجيء يوم القيامة أمام العلماء …