(۱) جب تم اپنے مسلمان بھائی سے ملو، تو اسے سلام کرو
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں : جب وہ اس سے ملے ، تو اسے سلام کرے، جب وہ اس کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرے، جب اسے چھینک آئے (اور الحمدللہ کہے) تو اس کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرے اور وہ اس کے لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرے ۔
(۲) حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں سلام کو آپس میں عام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ سلام کرنا آپس میں محبت اور اتحاد کا ذریعہ ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ اور تمہارا ایمان اس وقت کامل نہیں ہوگا جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ کیا میں تمہیں ایسا طریقہ نہ بتاؤں جس کے ذریعے تمہارے درمیان محبت پیدا ہو ؟ ( جب بھی آپس میں ملو ) سلام کو عام کرو۔
(۳) سلام کی سنت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو سلام کیا جائے، نہ کہ صرف اپنے گھر والوں، دوستوں اور جاننے والوں کو۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسلام کی کون سی خصوصیت اور طریقہ انتہائی قابل تعریف اور شاندار ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوق کو کھانا کھلانا اور لوگوں کو سلام کرنا، چاہے تم انہیں جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી