حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عظیم علم

قال التابعي الجليل مسروق رحمه الله:

لقد جالست أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فوجدتهم كالإخاذ (الذي يروي غُلّة الناس).

فالإخاذ يروي الرجل، والإخاذ يروي الرجلين، والإخاذ يروي العشرة، والإخاذ يروي المائة، والإخاذ لو نزل به أهل الأرض لأصدرهم، فوجدت عبد الله بن مسعود من ذلك الإخاذ (أي: يروي علمُه غلّة أهل الأرض العلمية) (من الطبقات الكبرى ٢/٢٦١)

جليل القدر تابعی مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا:

میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صحبت میں بیٹھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کو پانی کے تالاب کی طرح پایا، (جو لوگوں کی پیاس بجھا سکتا ہے)۔ کچھ تالاب ایک آدمی کی پیاس بجھا سکتے ہیں، کچھ دو آدمیوں کی پیاس بجھا سکتے ہیں، کچھ دس آدمیوں کی پیاس بجھا سکتے ہیں، جب کہ کچھ تالاب ایک سو آدمیوں کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔

البتہ بعض تالاب ایسے ہیں، جو پوری دنیا کے لوگوں کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔ میں نے عبد اللہ بن مسعود کو اسی درجہ کا پایا (کہ ان کا دینی علم پوری دنیا کی پیاس بجھا سکتا ہے)۔ (طبقات الکبریٰ ۲/۲۶۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرنے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی احتیاط

ایک مرتبہ حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے حدیث روایت کرنے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی احتیاط کو بیان کیا۔

انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرنا شروع کی، تو ان پر اتنی خوف اور فکر طاری ہو گئی کہ ان کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نظر آنے لگے۔

حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قریب کوئی بات کہی ہے۔‘‘ (المستدرک، الرقم: ۵۳۷۴)

یہ وہ اعلیٰ درجہ کی احتیاط تھی، جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اختیار فرمایا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو بیان کرتے تھے۔ ان پر یہ خوف اور فکر طاری ہو گئی کہ کہیں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرنے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے اور وہ غلطی سے کوئی ایسی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کرے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی تھی۔

ان کے خوف اور فکر کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک حدیث میں ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ (صحیح البخاری، الرقم: ۱۰۷)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علمِ دین کی اشاعت

لما دخل سيدنا علي رضي الله عنه الكوفة وشاهد علم أهلها، قال: أصحاب عبد الله …