حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات

لما حضرت سيدنا أبا ذر رضي الله عنه الوفاة، بكت زوجته. فقال لها: ما يبكيك؟ فقالت: وما لي لا أبكي وأنت تموت بفلاة من الأرض

قال سيدنا أبو ذر رضي الله عنه: فأبشري ولا تبكي، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: لا يموت بين امرأين مسلمين ولدان أو ثلاثة (في الطفولة) فيصبران ويحتسبان فيريان النار أبدا، وقد مات لنا ثلاثة من الولد (في الطفولة، فينجينا الله عزّ وجلّ من العذاب في الآخرة) (الاستيعاب ١/٢٥٣)

جب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تھے، تو ان کی اہلیہ رونے لگیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم کیوں رو رہی ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا: میں کیوں نہ روؤں جب کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ ویران زمین میں اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں؟

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مت روؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی مسلمان والدین کے دو یا تین بچے (بچپن ہی میں) مر جائیں اور والدین ان کی موت پر صبر کریں اور اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھیں، تو وہ جہنم کی آگ ہرگز نہیں دیکھیں گے۔

اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے تین بچے (بچپن ہی میں) مر چکے ہیں؛ (لہذا اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا ئیں گے)۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی طرف سے لشکر کے امیر کو انصاف کی نصیحت

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ شام کے گورنر تھے، تو مسلمانوں نے جہاد کیا اور فتح حاصل کی، جس سے انہوں نے کچھ مال غنیمت حاصل کی۔

مال غنیمت میں ایک خوبصورت باندی تھی، جو ایک مسلمان سپاہی کے حصے میں آئی۔ جب اس مسلمان سپاہی کو مالِ غنیمت میں سے ان کا حصہ دیا گیا، تو لشکر کے امیر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس باندی کو اس مسلمان سپاہی سے (جس کے حصے میں وہ باندی آئی تھی) اپنے لیے لے لیا۔

اس وقت حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ملک شام میں تھے؛ لہذا یہ سپاہی ان کے پاس گیا؛ تاکہ ان سے مدد لے لیں کہ وہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے بات کریں کہ وہ اس باندی کو ان پر واپس کریں۔

چناں چہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اس سپاہی کو ساتھ لے کر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے ان کو تین بار حکم دیا کہ وہ اس باندی کو اس سپاہی کے حوالے کریں۔

اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: سنو! اللہ کی قسم! اگر تم اس باندی کو سپاہی سے ناحق چھین لے، تو اچھی طرح جان لو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلا آدمی جو میری سنت کو بدلےگا، وہ بنو امیہ کا آدمی ہوگا (اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ بنو امیہ کا جو شخص میری سنت کو بدل دےگا، اس کا نام یزید ہوگا)۔

یہ کہہ کر حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگے۔

حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فوراً باندی کو اس سپاہی کو لوٹا دیا اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پیچھے گئے۔ ان کے پیچھے چلتے ہوئے انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں آپ سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ میں وہی آدمی ہوں، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی (کہ وہ جضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کو بدلےگا)۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں، آپ وہ شخص نہیں ہیں (وہ شخص کوئی اور ہوگا)۔

مذکورہ بالا واقعہ بیان کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شام کے لشکر کے سردار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو امیہ کے جس آدمی کے بارے میں فرمایا کہ وہ میری مبارک سنت کو بدل دےگا، وہ اس یزید بن ابی سفیان نہیں ہیں (کیوں کہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کے مطابق اپنی پوری زندگی گزاری اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں بدل دی)۔

امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہ کہا کہ جس یزید کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ میری سنت کو بدل دےگا، ممکن ہے کہ وہ یزید بن معاویہ تھا (کیوں کہ اسی نے بنو امیہ کے دور میں اسلام کو بہت نقصان پہنچایا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بدلنے کی کوشش کی)۔ (دلائل النبوۃ ۶/۴۱۰)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت مؤمرا أحدا (على جيش) من غير …