
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بلند ترین مقام
اللہ تعالٰی کی ساری مخلوق میں انبیاء علیہم السلام اسلام کے سب سے اعلی درجے پر فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانیت کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا تھا اور اللہ تعالی نے انہیں لوگوں کو یہ سکھانے کے لیے بھیجا تھا کہ لوگ کیسے سچے اور فرماں بردار مسلمانوں کی طرح اپنی زندگی گزاریں۔
ہر نبی کامل اسلام کا عملی نمونہ تھے۔ تاہم تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں جس نبی کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کا سب سے اعلیٰ درجہ عطا کیا تھا، وہ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
لہذا تمام نبیوں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل رسول اور نبی ہیں۔ وہ اللہ تعالی کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ وہ آخری نبی ہیں۔ ان پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ تمام انبیائے کرام اور رسولوں کے امام ہیں۔
ہمارے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اسلام کے سب سے اعلی درجہ پر فائز ہیں۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درجہ ہے۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ اس بات پر کوئی اتفاق نہیں ہے کہ درجے کے اعتبار سے تینوں میں سے تیسرے نمبر پر کون ہے۔ بہر حال ان تینوں انبیائے کرام (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام) کے بعد دیگر انبیاء علیہم السلام کا مقام ومرتبہ ہے اور کسی نبی کے لیے کسی خاص درجے کی کوئی تحدید نہیں ہے۔
قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے اور ان کی خوب صورت صفات بیان کی ہے۔
ذیل میں ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چند ایسی صفات ذکر کریں گے، جن کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اعلی اور قابل تعریف صفات
ایک پوری امت کی صفات کے حامل
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک پوری امت کی صفات کے حامل تھے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک امت تھے (یعنی ایک جامع اور باکمال پیشوا جو پوری امت کی قابل تعریف صفات کے حامل تھے)۔ اللہ کے فرماں بردار تھے۔ مکمل طور پر حق کی طرف مائل (بغیر کسی انحراف کے) اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔ (سورہ نحل، آیت نمبر: ۱۲۰)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک صفت کی تعریف فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حنیف تھے۔ ’’حنیف‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو ہمیشہ فرماں برداری اور اطاعت پر قائم رہے اور جھوٹ اور برائی کی طرف ذرا بھی مائل نہ ہو۔
اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار
حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی شکرگزاری کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا اور کس طرح انہیں سیدھا راستہ دکھایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٢١﴾
(وہ) ان کی نعمتوں کے شکر گزار تھے (یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے)۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کی۔ (سورہ نحل، آیت نمبر: ۱۲۱)
دنیا میں اللہ تعالی کے فضل سے شرف یاب
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دنیوی زندگی میں اپنا فضل فرمایا اور انہیں بھلائی عطا فرمائی۔ نیز اللہ تعالی نے فیصلہ فرمایا کہ وہ آخرت میں برگزیدہ بندوں میں سے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٢٢﴾
ہم نے انہیں دنیا میں بھلائی سے نوازا اور وہ یقیناً آخرت میں نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔ (سورہ نحل، آیت نمبر: ۱۲۲)
تمام آزمائشوں میں امتیازی کامیابی کے بعد امام بننے کی دولت نصیب ہونا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مختلف آزمائشوں سے آزمایا اور وہ ہر آزمائش میں پورے طور پر کامیاب رہے؛ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اعلیٰ مقام اور امامت کا منصب عطا فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ
اور (یاد رکھو) جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے مختلف احکام سے آزمایا، تو انہوں نے ان سب کو پورا کیا (یعنی وہ تمام امتحانات میں کامیاب ہو گئے)، تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا رہا ہوں۔ (سورہ بقرہ، آیت نمبر: ۱۲۴)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી