حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کا خوف

قال سيدنا أبو ذر رضي الله عنه من شدة خشية المحاسبة بين يدي الله: والله لوددت أن الله عز وجل خلقني يوم خلقني شجرة تعضد ويؤكل ثمرها (فلا أحاسب على أعمالي بين يدي الله عزّ وجلّ) (حلية الأولياء ١/١٦٢)

ایک مرتبہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے آخرت کے حساب کے خوف کی وجہ سے فرمایا:

اللہ کی قسم! کاش کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا، وہ مجھے ایک درخت بناتا، جسے کاٹا جا سکتا اور اس کا پھل کھایا جا سکتا (تو اس طرح مجھے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا ہوگا)۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عظیم ادب اور احترام

قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص نے ذکر کیا:

میں ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، جس میں ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میرے ذہن میں یہ خیال تھا کہ شاید ابو ذر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ناراض ہیں؛ کیوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مدینہ منورہ چھوڑ کر ربذہ میں قیام کریں۔

مجلس کے دوران ایک آدمی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی بات ذکر کی۔ جب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس آدمی کی بُری بات سنی، تو انہوں نے فوراً جواب دیا:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں اچھائی کے علاوہ کچھ نہ کہو؛ کیوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں ایک موقع پر موجود تھا، جہاں میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک خاص واقعہ دیکھا، جسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔

ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنے کی اجازت مانگی؛ تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کر سکوں اور آپ کی نصیحتیں سن سکوں۔

میں کچھ دیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنہائی میں رہا، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے۔ یہ سب حضرات یکے بعد دیگرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے۔

جب ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، تو اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کنکریاں اپنے مبارک ہاتھ میں لیں۔ ہاٹھ میں لینے کے بعد وہ کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ میں تسبیح پڑھنے لگیں۔ کنکریوں کی تسبیح کی آواز اتنی بلند تھی کہ وہ ہمیں شہد کی مکھیوں کی بِھنبھناہٹ کی طرح سنائی دے رہی تھی۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنکریاں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیں، تو ان کے ہاتھ میں بھی کنکریاں تسبیح پڑھتی رہیں۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں زمین پر رکھا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کنکریوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، تو وہ ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لے کر زمین پر رکھ دیا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کنکریوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا، تو وہ ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح پڑھنے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضرت عثمان سے لے کر زمین پر رکھ دیا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔ (سیر اعلام النبلاء ۲/۴۵۳)

Check Also

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

عن سيدنا أبي الدرداء رضي الله عنه أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه …