رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام رکھنا اور ان کی تحنیک کرنا

جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی، تو ان کی والدہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں؛ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا نام رکھیں اور ان کی تحنیک کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبد اللہ رکھا اور ان کی تحنیک کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ سے فرمایا:

تم ان کو لے کر چلی جاؤ، یقیناً (جب وہ بڑا ہوگا) تم ان کو ایک ذہین بچہ پاؤگے۔

تہجد کی نماز کا طریقہ سیکھنے کے لیے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات  گزاریں اور آپ کی با برکت صحبت سے مستفید ہوں۔

مسلم شریف اور طحاوی شریف کی روایت میں آیا ہے  کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزاریں ، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  ان کی نماز تہجد کا طریقہ سیکھیں اور ان کو  (حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ) آگاہ کریں (تاکہ وہ مسنون طریقہ کے مطابق تہجد کی نماز ادا کر سکیں)۔

 حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں:

”میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر میں رات گزاری تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نماز تہجد  کا مشاہدہ کر سکوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رات کے وقت بیدار ہوئے اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھویا اور دوبارہ سو گئے۔

”اس کے بعد، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دوبارہ بیدار ہوئے اور  پانی کے مشکیزے کی طرف گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کی ڈوری کھولی تاکہ پانی نکل سکے اور پھر وضو کیا۔ وضو کے دوران آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے زیادہ پانی استعمال نہیں کیا، لیکن اچھی طرح مکمل وضو فرمایا۔ اس کے بعد، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نماز ادا کرنا شروع کی۔

”میں بیدار ہوا اور پھر وضو کیا۔ اس کے بعد، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا (تاکہ نماز میں آپ کے ساتھ شامل ہو سکوں)۔ نماز کے دوران، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے ایک ہاتھ سے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنے پیچھے سے آہستہ سے اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔

”رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس رات تیرہ رکعت نماز ادا کی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تہجد کی نماز کے دوران یہ دعا فرمائی:

”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری بصارت (آنکھوں) میں نور، میری سماعت (کانوں) میں نور، میرے دائیں جانب نور، میرے بائیں جانب نور، میرے اوپر نور، میرے نیچے نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور عطا فرما، اور میرے (ہر کام میں) نور عطا فرما۔

Check Also

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا عظیم علم

عن طاوس رحمه الله أنه قال: جالست سبعين أو ثمانين شيخا من أصحاب رسول الله …