قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: معاذ بن جبل يجيء يوم القيامة أمام العلماء برتوة (أي: بميل – يكون إمام علماء هذه الأمة وتكون منزلته فوق منزلتهم) (المعجم الصغير، الرقم: ٥٥٦)
ایک مرتبہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن معاذ بن جبل تمام علما سے ایک میل آگے ہوں گے ( وہ اس امت کے علما کے سردار ہوں گے اور ان کا درجہ دیگر علما کے درجات سے بلند ہوگا)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر کرنا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ مسلمانوں کے معاملات میں تم کیسے فیصلہ کرو گے؟
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں قرآن کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اگر قرآن میں کوئی حکم نہ ملے تو تم کیا کرو گے؟
انہوں نے جواب دیا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اگر احادیث میں حکم نہ ملے تو تم کیا کرو گے؟ ۔
انہوں نے جواب دیا: ’’میں اجتہاد کروں گا‘‘
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ) کو صحیح راستہ دکھایا ۔ (سنن ترمذی 1327)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا انداز میں سوال کیا ، تاکہ لوگوں کو آپ کی صلاحیت کا علم ہو اور وہ آپ پر اعتماد کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ یمن کے لوگ اپنے دینی معاملات میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے رجوع کریں اور بغیر تامل کے ان کے فیصلے پر عمل کریں۔ (الکوکب الدری 2/344)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી