
(۱) جب تم اپنے مسلمان بھائی سے ملو، تو اسے سلام کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: جب وہ اس سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ اگر وہ اسے دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرے۔ جب اسے چھینک آئے (اور الحمد للہ کہے)، تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ جب وہ بیمار ہو، تو اس کی عیادت کرے۔ جب اس کا انتقال ہو جائے، تو اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرے اور اس کے لیے وہی پسند کرے، جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (سنن الترمذی، الرقم: ۲۷۳۶)
(۲) احادیث مبارکہ میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کو عام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آپس میں سلام کرنا باہمی محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگے، جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوگا، جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں، جس سے آپس میں محبت پیدا ہو جائے؟ سلام کو عام کرو (یعنی ملاقات کے وقت ایک دوسرے سے سلام کرو)۔ (صحیح مسلم، الرقم: ۵۴)
(۳) سلام کی سنت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو سلام کیا جائے، نہ کہ صرف اپنے گھر والوں، دوستوں اور جاننے والوں کو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا عمل بہت اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوق کو کھانا کھلانا اور لوگوں کو سلام کرنا، خواہ تم انہیں پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔ (صحیح البخاری، الرقم: ۱۲)
(۴) جب آپ کسی کو سلام کریں، تو آپ “السلام علیکم” کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ “السلام علیکم ورحمۃ اللہ” یا “السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” بھی کہہ سکتے ہیں۔ سلام جتنا زیادہ لمبا ہوگا، اتنا زیادہ ثواب ملےگا۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان الفاظ سے سلام کیا: السلام علیکم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا اور وہ شخص مجلس میں بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دس نیکیاں ملیں ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان الفاظ سے سلام کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا اور وہ شخص مجلس میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو بیس نیکیاں ملیں ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان الفاظ سے سلام کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا اور وہ شخص مجلس میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو تیس نیکیاں ملیں ہیں۔ (سنن ابی داود، الرقم: ۵۱۹۷ ؛ سنن الترمذی، الرقم: ۲۶۸۹)
(۵) اگر کوئی مسلمان آپ کو سلام کرے، تو آپ پر اس کے سلام کا جواب دینا لازم ہوگا؛ الّا یہ کہ آپ کو کوئی عذر ہو، مثلاً آپ کھانا کھا رہے ہیں یا قرآن مجید کی تلاوت کر رہے ہیں وغیرہ۔ ان صورتوں میں اگرچہ آپ پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے؛ لیکن آپ کے لیے سلام کا جواب دینا جائز ہے۔
(۶) اگر کوئی شخص کسی دینی کام میں مشغول ہو یا وہ کھانا کھا رہا ہو، تو اس کو سلام کرنا مکروہ ہے۔
(۷) غیر محرم عورتوں کو سلام نہ کریں۔ اگر کوئی غیر محرم عورت کسی مرد کو سلام کرے اور وہ بوڑھی ہو، جس کے بارے میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، تو وہ اس کے سلام کا جواب دے سکتا ہے۔
البتہ اگر کوئی نوجوان عورت کسی مرد کو سلام کرے، تو اس کو چاہیئے کہ وہ اس کے سلام کا جواب زبان سے نہ دے؛ بل کہ وہ اپنے دل میں اس کے سلام کا جواب دے۔
(۸) جب آپ سلام کا جواب دیں، تو آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ سلام کا اتنا جواب دیں، جتنا آپ کو سلام کیا گیا ہے؛ البتہ اگر آپ زیادہ الفاظ سے جواب دیں، تو یہ افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہوگا۔
مثال کے طور پر اگر کسی نے آپ کو “السلام علیکم” کہا، تو آپ جواب میں “وعلیکم السلام” کہہ سکتے ہیں؛ لیکن آپ کے لیے افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے کہ آپ “وعلیکم السلام ورحمۃ الله” یا “وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ” کہیں۔
قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اور جب تم کو سلام کیا جائے، تو تم اس سے بہتر انداز میں سلام کرو یا سلام کا جواب دو (یعنی جس طرح تم کو سلام کیا گیا، تم اس سلام کے الفاظ میں سلام کا جواب دو)۔ (سورۃ النساء، آیت: ۸۶)
(۹) سلام کے الفاظ “وبرکاته” پر ختم ہوتے ہیں۔ “وبرکاته” کے بعد کسی اور لفظ کا اضافہ نہ کریں۔
محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یمن کا ایک شخص اس مجلس میں حاضر ہوا اور اس نے ان الفاظ سے سلام کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پھر اس نے سلام میں مزید الفاظ کا اضافہ کیا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی ختم ہو گئی تھی؛ اس لیے انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ان کے ساتھیوں نے کہا: یہ یمن کا وہ شخص ہے، جو آپ کی مجلس میں آتا رہتا ہے۔ ان کے ساتھیوں نے اس شخص کا تعارف کرایا؛ یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پہچان لیا۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سلام کا اختتام برکت پر ہوتا ہے (یعنی سلام کا اختتام “وبرکاتہ” پر ہوتا ہے)۔ (موطا امام محمد، ص ۳۸۵)
(۱۰) جب آپ کسی شخص کے سلام کا جواب دیں، تو زبان سے اس کے سلام کا جواب دیں۔ محض ہاتھ کے اشارے سے یا سر ہلانے سے سلام کا جواب نہ دیں۔
(۱۱) اگر لوگوں کی جماعت کسی شخص سے ملے اور جماعت میں سے ایک فرد اس شخص کو سلام کرے، تو اس فرد کا سلام پوری جماعت کی طرف سے کافی ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک شخص کسی جماعت سے ملے اور وہ شخص اس جماعت سے سلام کرے اور جماعت میں سے ایک فرد اس شخص کے سلام کا جواب دے، تو اس فرد کا جواب پوری جماعت کی طرف سے کافی ہوگا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگوں کی ایک جماعت کسی شخص کے پاس سے گزرے اور جماعت میں سے ایک فرد اس شخص کو سلام کر لے، تو اس فرد کا سلام پوری جماعت کی طرف سے کافی ہوگا اور اگر لوگوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی ہو اور کوئی شخص ان کے پاس سے گزرے اور ان سے سلام کرے اور جماعت میں سے ایک فرد اس کے سلام کا جواب دے، تو اس فرد کا جواب پوری جماعت کی طرف سے کافی ہوگا۔ (سنن ابی داود، الرقم: ۵۲۱۲)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી