روافض کی حفظِ قرآن سے محرومی اور اس کا ایک عبرت ناک واقعہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

اب تو معلوم نہیں دنیا کے کیا رنگ ہیں! اپنے بچپن میں خوب دیکھا اور بڑے بڑے دعوے کئے اور مناظرہ ہوئے کہ رافضی حافظِ قرآن نہیں ہوتا۔

ایک مرتبہ کسی جگہ کچھ غیر مسلموں اور رافضیوں نے مل کر ایک سُنّی حافظِ قرآن کو خوب لالچ دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنے آپ کو رافضی ظاہر کر کے حِفظِ قرآن سنا دے۔

مقابلہ ہوا، جب وہ شخص آیا، تو سب سے پہلے اس سے پورے مجمع کے سامنے صحابہ کرام پر تبرّا پڑھنے کو (یعنی صحابہ کرام پر لعنت کرنے کو) کہا گیا۔ اس نے سب کے سامنے صحابہ پر تبرّا پڑھا۔ پس فوراً قرآن پاک سینہ سے نکل گیا اور بھول گیا۔

میرے دوستو! بے ادبی سے بڑی محرومی ہوتی ہے۔ (ملفوظاتِ حضرت شیخ رحمہ الله، حصہ اول، ص ۳۸)

Check Also

بیکار وقت کھونا بہت برا ہے

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: بے کار وقت …