
حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا ایک کاہن کے کھانے سے قے کرنا
حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا ایک غلام تھا، جو غلّہ کے طور پر اپنی آمدنی میں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا۔
ایک مرتبہ وہ کچھ کھانا لایا اور حضرت نے اس میں سے ایک لقمہ نوش فرما لیا۔ غلام نے عرض کیا کہ آپ روزانہ دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کس ذریعہ سے کمایا۔ آج دریافت نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے دریافت کرنے کی نوبت نہیں آئی۔
اب بتاؤ! عرض کیا کہ میں زمانۂ جاہلیت میں ایک قوم پر گذرا اور ان پر مَنتر پڑھا۔ اُنہوں نے مجھ سے وعدہ کر رکھا تھا۔ آج میرا گذر ادھر کو ہوا، تو اُن کے یہاں شادی ہو رہی تھی۔ انہوں نے یہ مجھے دیا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ تُو مجھے ہلاک ہی کر دیتا۔
اس کے بعد حلق میں ہاتھ ڈال کر قے کرنے کی کوشش کی؛ مگر ایک لقمہ، وہ بھی بھوک کی شدت کی حالت میں کھایا گیا، نہ نکلا۔
کسی نے عرض کیا کہ پانی سے قے ہو سکتی ہے۔ ایک بہت بڑا پیالہ پانی کا منگوایا اور پانی پی پی کر قے فرماتے رہے؛ یہاں تک کہ وہ لقمہ نکالا۔
کسی نے عرض کیا کہ الله آپ پر رحم فرمائیں! یہ ساری مشقت اس ایک لقمہ کی وجہ سے برداشت فرمائی! آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری جان کے ساتھ بھی یہ لقمہ نکلتا، تو میں اس کو نکالتا۔ میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو بدن مالِ حرام سے پرورش پائے، آگ اس کے لیے بہتر ہے۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ میرے بدن کا کوئی حصّہ اس لقمہ سے پرورش نہ پا جائے۔
ف: حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو اس قسم کے واقعات متعدد بار پیش آئے کہ احتیاط مزاج میں زیادہ تھی۔ تھوڑا سا بھی شبہ ہو جاتا تھا، تو قے فرماتے۔
بخاری شریف میں ایک اور قصّہ اسی قسم کا ہے کہ کسی غلام نے زمانۂ جاہلیت میں کوئی کہانت یعنی غیب کی بات نجومیوں کے طور پر کسی کو بتلائی تھی، وہ اتّفاق سے صحیح ہو گئی۔ ان لوگوں نے اس غلام کو کچھ دیا، جس کو انہوں نے اپنی مقرّرہ رقم میں حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو لا کر دے دیا۔ حضرت نے نوش فرمایا اور پھر جو کچھ پیٹ میں تھا، سب قے کیا۔
ان واقعات میں غلاموں کا مال ضروری نہیں کہ ناجائز ہی ہو، دونوں احتمال ہیں؛ مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی کمالِ احتیاط نے اس مشتبہ مال کو بھی گوارا نہ کیا۔ (فضائل اعمال، حکایات صحابہ، ص ٦٨-٦٩)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી