قرآن مجید میں درود کا حکم

قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں، جن میں اللہ تعالی نے اپنے  بندوں کو  نماز ،  روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کا حکم دیا ہے ، اسی طرح قرآن مجید میں بہت سی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض خاص بندوں یعنی انبیاء کرام علیہم السلام و غیرہم کی تعریف و توصیف کی ہے۔  تاہم ،  قرآن مجید میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ خود ایک  عمل کرتے ہیں  اور اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ یہ عمل کرے ، سوائے درود کے ، درود کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! ان پر درود و سلام بھیجو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تعظیم کی ہے جو مخلوق میں کسی  کو حاصل نہیں ہے ۔ یہ اعزاز  اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ نیک، حضرت آدم کی اولاد کے لیے باعث فخر :  نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے مخصوص ہے ۔

آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنی طرف سے نبی پر درود بھیجنے کا ذکر کیا ہے، پھر فرشتوں کی طرف سے، اور آخر میں مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بھی نبی پر درود بھیجیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے لیے آیت کے شروع میں لفظ ’اِنَّا‘ استعمال کیا ہے ۔ پھر  اللہ تعالیٰ نے زمانہ حال ’یصلون‘ کا استعمال کیا ہے جو عربی زبان میں دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے ۔

دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ہر وقت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس سے بڑا اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان کو اللہ اور فرشتوں کے ساتھ اس مبارک کام میں شریک ہونے کا حکم دیا جائے!

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو “نبی” کہا ہے نہ کہ ان کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ذکر کیا ہے ، جیسا کہ دوسرے انبیاء کا معاملہ ہے۔ اس سے بھی  حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت ظاہر ہوتی ہے ۔

یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز  ، حضرت آدم کے اس اعزاز سے بڑھا ہوا ہے جو ان کو  فرشتوں کے ذریعے ان کے سامنے  سجدہ کراکر  عطا کیا گیا تھا۔

وجہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے صرف فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جب کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ خود بھی مومنین اور فرشتوں کے ساتھ درود بھیجتے ہیں ۔

Check Also

اتباع سنت کا اہتمام – ۱۴

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد …