سلام کی سنتیں اور آداب – ۱

السلام علیکم دینِ اسلام کا سلام ہے۔ جس طرح اسلام کا مطلب ہے  امن و سلامتی ،  اسی طرح اسلامی سلام میں  بھی امن و سلامتی کا  پیغام  ہے۔ سلام ایک اسلامی طریقہ ہے اور مسلمانوں کی پہچان ہے ۔ احادیث مبارکہ میں اس کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی  ہے۔

 حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے  مدینہ طیبہ پہونچے ، تو وہاں کے لوگ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔ میں نے کسی کو تین بار یہ  پکارتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول آگئے ۔ اللہ کے رسول آگئے ۔  اللہ کے رسول آگئے ۔  میں  بھی  لوگوں کے ساتھ نکلا ، تاکہ بنفس نفیس دیدار کروں (اس  شخصیت کا  جن کو   لوگ اللہ کا رسول مانتے تھے ، حالانکہ میں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا)۔ جلد ہی میری نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پڑی۔ آپ کا چہرہ دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ یہ چہرہ کسی دھوکے باز یا جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا ۔ اس کے بعد   (مسرت و  خوشی کے اس موقع پر) لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے میں نے سب سے پہلے جو الفاظ ان سے  سنے  وہ یہ تھے:

“اے لوگو! آپس میں سلام کو عام کرو (ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت)، مخلوق کو کھانا کھلاؤ،  رشتوں کو جوڑو، رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو ، اس طرح تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔”

حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ سلام کرنا باہمی محبت اور جنت میں دخول کا ذریعہ ہے۔

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے،  جب تک ایمان نہ لاؤ اور تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمہارے درمیان  محبت نہ ہو۔  کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جس سے آپس میں محبت پیدا ہو ؟ سلام کو عام کرو  (ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت)۔

 مسلمان کو سلام کرنا ان چھ  حقوق میں سے ایک ہے جو ہر شخص پر اپنے مسلمان بھائی کے لیے  واجب ہے ۔ جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرتا ہے تو اسے تین  فائدے پہنچاتا ہے  :

1) وہ اس کے لیے دعا کرتا ہے کہ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے، کیوں کہ سلام میں سلامتی کا معنی  ہے۔

2) وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے اور اسے ہر وقت دیکھ رہا ہے، کیوں کہ’سلام’ اللہ کا نام ہے۔

3) وہ اسے آگاہ کرتا ہے کہ جب اس نے اسے سلام کیا ہے، تو وہ یقیناً اس کا خیر خواہ ہے اور وہ اسے کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچائے گا (نہ زبانی، نہ جسمانی اور نہ ہی کسی اور طرح)۔

Check Also

تعزیت کی سنتیں اور آداب – ۲

(۱) تعزیت کا مطلب یہ ہے کہ میت کے رشتہ داروں اور عزیزوں کو ان …