جب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تھے، تو ان کی اہلیہ رونے لگیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم کیوں رو رہی ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا: میں کیوں نہ روؤں جب کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ ویران زمین میں اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں؟
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مت روؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی مسلمان والدین کے دو یا تین بچے (بچپن ہی میں) مر جائیں اور والدین ان کی موت پر صبر کریں اور اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھیں، تو وہ جہنم کی آگ ہرگز نہیں دیکھیں گے۔
اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے تین بچے (بچپن ہی میں) مر چکے ہیں؛ (لہذا اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا ئیں گے)۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی طرف سے لشکر کے امیر کو انصاف کی نصیحت
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ شام کے گورنر تھے، تو مسلمانوں نے جہاد کیا اور فتح حاصل کی، جس سے انہوں نے کچھ مال غنیمت میں حاصل کیا۔
مال غنیمت میں ایک خوبصورت باندی تھی، جو ایک مسلمان سپاہی کے حصے میں آئی۔ جب اس مسلمان سپاہی کو مالِ غنیمت میں سے ان کا حصہ دیا گیا، تو لشکر کے امیر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس باندی کو اس مسلمان سپاہی سے (جس کے حصے میں وہ باندی آئی تھی) اپنے لیے لے لیا۔
اس وقت حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ملک شام میں تھے؛ لہذا یہ سپاہی ان کے پاس گیا؛ تاکہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اس باندی کو واپس لینے میں ان کی مدد کریں۔
چناں چہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اس سپاہی کو ساتھ لے کر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں تین بار حکم دیا کہ وہ اس باندی کو سپاہی کے حوالے کریں۔
اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: سنو ! اللہ کی قسم ! اگر تم نے اس باندی کو سپاہی سے ناحق چھین لیا تو اچھی طرح جان لو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے میری سنت کو بدلنے والا بنو امیہ کا آدمی ہو گا ( اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو امیہ کا جو شخص میری سنت کو بدل دے گا اس کا نام یزید ہوگا۔ )
یہ کہہ کر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پیٹھ پھیر لی اور واپس جانے لگے۔
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فوراً باندی کو سپاہی کو لوٹادیا اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پیچھے گئے اور ان سے کہا کہ میں آپ سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں ۔ مجھے بتائیے کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں آپ وہ شخص نہیں ہیں۔
مندرجہ بالا واقعہ بیان کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی )حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شام کے لشکر کے سردار تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو امیہ کے ایک شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ میری امبارک سنت کو بدل دے گا ، تو اس سے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مراد نہیں تھے (کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور پوری زندگی سنت پر عمل پیرا تھے )
اس کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ بنو امیہ میں ایک اور شخص تھا جس کا نام بھی یہی تھا۔ وہ یزید بن معاویہ تھا، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا، اور ایسا لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں اسی کا ذکر ہے (کیوں کہ اس نے بنو امیہ کے دور میں اسلام کو بہت نقصان پہنچایا تھا )۔
(دلائل النبوۃ 6/410)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી