قریش کی ہدایت کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی دعا

كان سيدنا بلال رضي الله عنه يدعو كل يوم لهداية قريش (قبيلة رسول الله صلى الله عليه وسلم) قبل أن يؤذّن لصلاة الفجر: اللهم إني أحمدك وأستعينك على قريش أن يقيموا دينك (من سنن أبي داود، الرقم: ٥١٩)

حضرت بلال رضی اللہ عنہ روزانہ قریش (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان) کی ہدایت کے لیے دعا کیا کرتے تھے فجر کی اذان دینے سے پہلے۔

وہ کہتے تھے: اے اللہ! میں آپ کی حمد بیان کرتا ہوں اور آپ کی مدد چاہتا ہوں (اور میری دعا آپ سے یہ ہے) کہ آپ قریش کو اسلام کی طرف لے آئیں؛ تاکہ وہ (دنیا میں) آپ کے دین کو قائم کریں۔

قریش کی ہدایت کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی دعا

حضرت عروہ بن زبیر رحمہ الله روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو نجّار کی ایک عورت (یعنی حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کی والدہ: حضرت نوّار بنت مالک رضی الله عنہا) نے فرمایا کہ میرا گھر ایک بلند جگہ پر تھا اور میرا گھر مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے اردگرد بلند ترین مکانات میں سے سب سے اونچا مکان تھا۔

بلال رضی الله عنہ میرے گھر کے اوپر سے فجر کی اذان دیتے تھے؛ تاکہ ان کی آواز دور دور تک پہنچ جائے۔ وہ سحری کے وقت آتے تھے اور میرے گھر کی چھت پر بیٹھ کر افق کی طرف دیکھتے تھے (اور فجر کے وقت کے شروع ہونے کا انتظار کرتے تھے)۔

جب فجر کا وقت داخل ہوتا، تو وہ کھڑے ہوتے اور اپنا بازو پھیلاتے (کچھ دیر بیٹھنے کی وجہ سے اپنے سے ٹھکان دور کرنے کے لیے)، پھر وہ یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ کی حمد بیان کرتا ہوں اور آپ کی مدد چاہتا ہوں (اور میری دعا آپ سے یہ ہے) کہ آپ قریش کو اسلام کی طرف لے آئیں؛ تاکہ وہ (دنیا میں) آپ کے دین کو قائم کریں۔

اس کے بعد وہ اذان دیتے تھے۔

یہ عورت حضرت نوّار بنت مالک رضی الله عنہا نے مزید فرمایا کہ الله کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے ایک رات بھی یہ دعا چھوڑی ہو (یعنی حضرت بلال رضی الله عنہ نے قریش کی ہدایت کے لیے دعا کبھی نہیں چھوڑی)۔ (سنن ابی داود، الرقم: ۵۱۹)

Check Also

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

عن سيدنا أبي الدرداء رضي الله عنه أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه …