جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت

عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قال: فقالوا: يا رسول الله: وكيف تعرض صلاتنا عليك، وقد أرمت قال: يقولون بليت قال: إن الله تبارك وتعالى حرم على الأرض أجساد الأنبياء صلى الله عليهم (سنن أبي داود، الرقم: 1531، وإسناده صحيح كما في خلاصة الأحكام للنووي 1/441)

حضرت اوس بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سب سے بابرکت اور فضیلت والا دن، جمعہ کا دن ہے؛ لہذا اس دن میں مجھ پر خوب درود بھیجا کرو؛ اس لیے کہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود کیسے آپ کے سامنے پیش کیا جائےگا؛ جب کہ (موت کے بعد) آپ بوسیدہ ہو گئے ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔

بکثرت درود شریف پڑھنے کی وجہ سے انعامات

ابو العباس احمد بن منصور کا جب انتقال ہو گیا، تو اہلِ شیراز میں سے ایک شخص نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ شیراز کی جامع مسجد میں محراب میں کھڑے ہیں اور ان پر ایک جوڑا ہے اور سر پر ایک تاج ہے جو جواہر اور موتیوں سے لدا ہوا ہے۔

خواب دیکھنے والے نے ان سے پوچھا، انہوں نے کہا: الله جلّ شانہ نے میری مغفرت فرما دی اور میرا بہت اکرام فرمایا اور مجھے تاج عطا فرمایا اور یہ سب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر کثرتِ درود کی وجہ سے۔ (فضائل درود، ص ۱۵۶)

وبا کے وقت درود میں مشغول ہونا

حکیم الامت مجدّد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام نشر الطيب في ذكر النبي الحبيب صلى الله علیہ وسلم ہے۔ یہ کتاب عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اس کا مصنف کتنا بڑا عاشق رسول ہے۔

جب حضرت تھانوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل پر اس کتاب کو لکھ رہے تھے، اُس زمانے میں تھانہ بھون میں طاعون پھیلا ہوا تھا، تو جس دن کتاب لکھتے، قصبہ میں کوئی موت نہیں ہوتی تھی اور جس دن ناغہ ہو جاتا تھا، اس دن کئی اموات ہو جاتی تھیں۔

جب حضرت کو مسلسل یہ روایت پہنچی، تو آپ روزانہ لکھنے لگے اور جب روزانہ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل اور آپ کی شان کو لکھنے لگے، تو وہاں طاعون ختم ہو گیا۔

لہذا درود شریف کی کثرت بلاؤں کو ٹالنے کے لیے بھی اِکْسِیر ہے اور ایک درود شریف پر دس درجے بلند ہوتے ہیں، دس نیکیاں ملتی ہیں اور دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔ (آداب عشق الرسول صلى الله علیہ وسلم، ص ۱۱)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

 Source: http://whatisislam.co.za/index.php/durood/item/384 & http://ihyaauddeen.co.za/?p=4504

Check Also

صبح وشام درود شریف پڑھنا

عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ عَشرًا وَحِينَ يُمسِي عَشرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِى يَومَ القِيَامَة (فضائل درود)...