داڑھی کٹانے کا گناہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ الله نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:

داڑھی کٹانا خواہ اتنا بڑا گناہ نہ ہو جیسا کہ زنا اور شراب نوشی وغیرہ؛ لیکن فرق دونوں میں یہ ہے کہ جب آدمی مثلاً زنا کرتا ہے، تو نورِ ایمانی اس سے ہٹ جاتا ہے۔ بعد میں پھر وہ ایمان لوٹ آتا ہے۔

لیکن داڑھی کٹانے والا شخص ہر وقت اس گناہ کے ہمراہ ہے اور ہر وقت یہ گناہ اس کے ساتھ لگا ہوا ہے؛ خواہ وہ عبادت میں مشغول ہو جیسے نماز، روزہ، تلاوت قرآن، حج وغیرہ۔

ویسے بھی اس گناہ میں بڑی جسارت پائی جاتی ہے کہ داڑھی کٹوانے والا علی الاعلان سب کے سامنے یہ عمل کرتا ہے۔ (ملفوظاتِ حضرت شیخ رحمہ الله، حصہ اول، ص ۱۳-۱۴)

Check Also

ابو جہل کا تکبّر

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: ابو جہل کا …