حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا

ذات مرة، ضم رسول الله صلى الله عليه وسلم سيدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما ودعا له فقال: اللهم علمه الحكمة. (صحيح البخاري، الرقم: ٣٧٥٦)

ایک مرتبہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو گلے لگایا اور ان کے لیے دعا فرمائی : اے اللہ !  اسے حکمت عطا فرما۔ (اسد الغابہ 3/291)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت جبرئیل علیہ السلام کا دیدار

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہونچے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے خلوت میں بات کر رہے تھے۔ چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے  گفتگو کررہے تھے ، اس لیے آپ کی پیٹھ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف تھی اور شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بے خبر تھے  کہ کوئی  ان سے ملنے آیا ہے ۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس چلے گئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔

وہاں سے واپسی کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ سے فرمایا :  اے میرے بیٹے!کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے چچا زاد بھائی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھ سے کیسے منہ موڑ لیا  ( شاید وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے)

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا: میرے پیارے والد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص موجود تھا جو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  کچھ  گفتگو کر رہا  تھا (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف پیٹھ کر لی تھی)

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تو میرے والد نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :  اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے عبداللہ سے ایسی ایسی بات کہی  ( میں نے اس سے کہا کہ آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا) ۔ تو  اس نے مجھے بتایا کہ (آپ نے مجھ سے اس لیے منہ موڑا کہ) ایک شخص آپ سے خلوت میں بات کر رہا تھا (مگر  میں اس شخص کو نہیں دیکھ سکا)۔ کیا یہ سچ ہے کہ آپ کسی کے ساتھ مخصوص گفتگو کر رہے تھے؟”‎

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا :  اے عبداللہ ! کیا تم نے واقعی ان کو دیکھا ہے ( جس سے میں بات کر رہا تھا)؟ حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا :  ہاں (میں نے انہیں دیکھا ہے )۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص (جن کو تم نے دیکھا) جبرئیل علیہ السلام تھے۔ میں ان سے گفتگو میں مشغول تھا ۔

Check Also

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا

قال سيدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما: وضع رسول الله صلى الله عليه …