حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ میں فتوی دینا

قال سيدنا كعب بن مالك رضي الله عنه: كان معاذ بن جبل يفتي الناس (ويرشدهم) بالمدينة في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر رضي الله عنه (من حياة الصحابة ٢/٤٨)

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں معاذ بن جبل مدینہ منورہ میں لوگوں کو فتویٰ دیتے تھے (اور ان کی رہبری کرتے تھے)۔ (حیاۃ الصحابہ ۲/۴۸)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص طاعون میں وفات پاتا ہے، وہ شہید کی وفات پاتا ہے۔

ہجرت کے سترہویں سال میں حضرت عمر رضی الله عنہ کے دورِ خلافت میں ملکِ شام میں طاعون عمواس پھیلا۔ اس طاعون میں شام میں مسلمانوں کے امیر حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ بھی مبتلا ہوئے اور اس طاعون میں ان کی وفات ہو گئی۔ حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ نے اپنی وفات سے پہلے حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! یہ طاعون تمہارے لیے رحمت ہے! یہ تمہارے نبی صلی الله علیہ وسلم کی دعا ہے اور یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے! بے شک معاذ الله تعالی سے دعا کرتا ہے کہ الله تعالی اس کو اور اس کے اہل وعیال کو اس طاعون میں سے اپنا حصہ عطا فرمائے۔

زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ایک دن حضرت معاذ رضی الله عنہ مسجد سے گھر واپس آئے، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا بیٹا بیمار ہے اور طاعون میں مبتلا ہوا ہے۔ حضرت معاذ رضی الله عنہ مسلسل اپنے بیٹے کی دیکھ بھال اور تیمار داری کرتے رہے؛ یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت معاذ رضی الله عنہ کی دو بیٹیاں بھی اس طاعون میں انتقال کر گئیں۔

اس کے بعد حضرت معاذ رضی الله عنہ خود طاعون میں مبتلا ہو گئے اور انتقال کر گئے۔ بیماری کے آغاز میں جب انہوں نے اپنے ہاتھ پر پھوڑے دیکھے، جو طاعون کی علامات تھیں، تو انہوں نے خوشی سے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس چیز کے بدلے دنیا کے سرخ اونٹ بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوں (یعنی حضرت معاذ رضی الله عنہ طاعون کے ثواب کے بدلے سرخ اونٹ، جو عرب لوگوں کے یہاں انتہائی قیمتی مال سمجھا جاتا تھا اس کو لینے کے لیے تیار نہیں تھے)۔

اس کے بعد حضرت معاذ رضی الله عنہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔

(کشف الاستار، الرقم: ٣٠٤٢ ؛ البدایۃ والنہایۃ ۱۰/٤٣ ؛ الطبقات الکبری ۳/٤٤١ ؛ سیر اعلام النبلاء ۳/۲۸۸)

Check Also

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا

ذات مرة، ضم رسول الله صلى الله عليه وسلم سيدنا عبد الله بن عباس رضي …