باغِ محبت (قسط ستاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا خصوصی تعلق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ہر نبی کے ساتھ کچھ نسبت اور تعلق ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ یہ امت تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتی ہے اور یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نبی ہونے کے اعتبار سے آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں؛ لہذا ہماری امت تمام انبیاء علیہم السلام سے محبت کرتی ہے؛ لیکن ہم صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرتے ہیں۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا تعلق آپس میں بھائیوں کی طرح ہے، جن کے باپ ایک ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے (یعنی تمام انبیاء توحید پر ایمان رکھتے ہیں؛ لیکن ان کی شریعتیں مختلف ہیں)۔ میں حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں؛ کیوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور (قیامت سے پہلے) حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ضرور ہوگا۔ (مسند احمد، الرقم: ۹۲۷۰ ؛ صحیح البخاری، الرقم: ۳۴۴۳)

البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ قریبی اور خصوصی ہے۔

چناں چہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا:

اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کریں۔ (حضرت ابرہیم علیہ السلام) بالکل سیدھے تھے (یعنی وہ حق کے علاوہ کسی اور طرف مائل نہیں تھے)۔ (سورہ نحل، آیت: ۱۲۳)

اسی طرح ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو حکم دیا ہے:

فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا

(تم اے امتِ محمدیہ!) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرو۔ (حضرت ابرہیم علیہ السلام) بالکل سیدھے تھے (یعنی وہ حق کے علاوہ کسی اور طرف مائل نہیں تھے)۔ (سورہ آل عمران، آیت: ۹۵)

ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ‘ملت’ کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

‘ملت’ سے کیا مراد ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے امام ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کے امام ہیں، تو خود بخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے امام بھی ہیں۔

لہذا جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے، تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملتِ ابراہیمی سے کیا مراد ہے؟

حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے دین میں تین قسم کے احکام تھے، جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئے:

(۱) پہلی قسم کے احکام: اصول وعقائد یعنی وہ احکام جن کا تعلق عقائد سے تھا۔

(۲) دوسری قسم کے احکام: قواعد کلیہ یعنی وہ احکام جو دین کے بنیادی مسائل سے متعلق ہیں۔

(۳) تیسری قسم کے احکام: مسائل جزئیہ اور مسائل فرعیہ یعنی وہ احکام جو جزئی اور فرعی مسائل سے متعلق ہیں۔

جہاں تک پہلی قسم کے احکام کا تعلق ہے (یعنی عقائد)، تو تمام انبیاء علیہم السلام ان عقائد میں برابر تھے؛ لہذا ہر نبی نے اللہ تعالی کی وحدانیت اور توحید کی طرف دعوت دی۔

جہاں تک دوسری قسم کے احکام کی بات ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کو ان احکام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان احکام کو ملتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں یہ بنیادی احکام اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دینِ اسلام کا حصہ بنا دیا۔

لہٰذا اس امت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان احکام کو اس طرح انجام دیں، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انجام دیا تھا۔

ذیل میں دین کے کچھ ایسے احکام مذکور ہیں، جو ملتِ ابراہیمی میں سے ہیں:

(۱) مشرکین اور کفار کے طریقوں کی مخالفت کرنا، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔

(۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنا۔

(۳) حج اور عمرہ کے مناسک کو اسی طرح ادا کرنا، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ادا کیا تھا۔

(۴) فریضہ قربانی ادا کرنا، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا۔

(۵) ختنہ کی سنت ادا کرنا۔

(معارف القرآن کاندھلوی ۴/۴۲۳)

Check Also

اتباع سنت کا اہتمام – ۱۴

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد …