باغِ محبت (قسط نواسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت اور راستے پر چلیں، جو مکمل اطاعت وفرماں برداری کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرنے کا حکم نہیں دیا؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کے سردار ہیں، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اطاعت وفرماں برداری کا مجسم نمونہ تھے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضا وتسلیم اور اطاعت وفرماں برداری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سبقت لے گئے۔

چناں چہ اس دنیا میں معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کے سامنے یہ ظاہر کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے امام ہیں اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے یہ ظاہر کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کے امام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سب سے افضل مخلوق ہیں۔

دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت

معراج کے موقع پر جب تمام انبیاء علیہم السلام بیت المقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے جمع ہوئے، تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور آپ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا۔

اس سے معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے امام ہیں، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں؛ کیوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی موجود تھے۔

اسی طرح معراج کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر چڑھتے وقت بعض انبیاء علیہم السلام کے پاس سے گزرے۔ پہلے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام سے، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سے، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔

جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات ہے، تو وہ ساتویں آسمان پر تھے۔ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بلند مقام معلوم ہوتا ہے۔

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی آگے چلے گئے اور اوپر چڑھ کر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور پھر وہاں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء پر سبقت لے گئے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ (سنن النسائی، الرقم: ۴۴۸)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے

حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کے سامنے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوق میں سب سے اعلیٰ مقام عطا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا حبیب (یعنی سب سے پیارا بندہ) بنایا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (مسجد نبوی میں) بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے گھر سے) نکلے اور ان کی طرف آئے۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے، تو آپ نے سنا کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل (خاص دوست) منتخب کیا۔

دوسرے نے کہا: اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ بنایا جن کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے گفتگو کر سکتے تھے۔

 تیسرے نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح ہونے کا شرف عطا کیا گیا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے اور والد کے واسطے کے بغیر ان کی روح کو ان کی والدہ کے رحم میں داخل کیا گیا تھا۔

چوتھے نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو انسانوں کا باپ بننے کے لیے منتخب فرمایا۔

 اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں تشریف لائے اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا: میں نے تمہاری گفتگو سنی ہے اور (میں نے محسوس کیا ہے) کہ گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے بلند مقام اور اعلی رتبے کے بارے میں تم نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

بے شک ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست گفتگو کرنے کا شرف حاصل تھا اور یہ ایک ثابت شدہ بات ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح ہیں۔ یہ بات قطعی اور برحق ہے۔ جہاں تک آدم علیہ السلام کا معاملہ ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا اور انہیں ابو البشر (انسانوں کا باپ) بنایا۔

غور سے سنو! میں حبیب اللہ ہوں (یعنی میں اللہ تعالیٰ کا سب سے پیارا بندہ ہوں) اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں گا (جس کے نیچے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے تمام لوگ ہوں گے) اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، جس کی شفاعت قیامت کے دن قبول کی جائےگی اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔ میں سب سے پہلے جنت کے دروازے کی زنجیر ہلانے والا ہوں گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم فرمائیں گے کہ میرے لیے دروازہ کھول دیا جائے اور مجھے اندر داخل کیا جائےگا اور میرے ساتھ غریب ایمان والے ہوں گے۔ اس پر بھی کوئی فخر نہیں کرتا۔ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام اوّلین ​​اور آخرین میں سب سے افضل ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے۔ (سنن الترمذی، الرقم: ۳۶۱۶)

آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت

قیامت کے دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ظاہر ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کے سردار ہیں۔ جب لوگ حیران وپریشان حال میں میدانِ حشر میں کھڑے ہوں گے اور اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے اور حساب وکتاب کے آغاز کے لیے بے چین ہوں گے، تو وہ مختلف نبیوں کے پاس جائیں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تعالٰی سے سفارش کریں کہ ہمارا حساب شروع کیا جائے۔

مگر ہر نبی معذرت پیش کریں گے؛ یہاں تک کہ آخر میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھیں گے، سجدے میں جائیں گے اور ایک ہفتہ تک اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد وثنا بیان کریں گے، جس کا خود اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر القا فرمائیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حساب شروع کرنے کے لیے ساری مخلوق کے لیے شفاعت کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول کی جائےگی۔

اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت وشفقت تمام انبیاء ورسل علیہم السلام اور ان کی امتوں کو شامل ہو جائےگی اور سب کے سامنے یہ واضح ہو جائےگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سب سے افضل اور برتر بندہ ہیں۔

Check Also

باغِ محبت (قسط چھیاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا امتحان حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً نوے …