باغِ محبت (قسط چھیاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا امتحان

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً نوے سال کی عمر میں تھے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالی ان کو ایک بیٹا عطا کریں؛ تاکہ وہ بیٹا ان کے مشن کو (یعنی اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کو) جاری رکھے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے نوازا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور اپنے شیر خوار بچے کو لے کر جائیں اور انہیں مکہ مکرمہ کے صحرا میں چھوڑ دیں۔

اس وقت مکہ مکرمہ شہر اور خانک کعبہ کا ڈھانچہ موجود نہیں تھا ۔ یہ ایک بنجر زمین تھی، جہاں پیڑ پودوں کا نام و نشان نہیں تھا ۔ اس علاقے میں دور دور تک پان نہیں آتا تھا اور نہ کوئی پناہ گاہ نظر آتی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں مکہ مکرمہ لے کر آئے اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں انہیں اس بنجر زمین میں چھوڑ دیا۔
انہیں چھوڑ کر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام رخصت ہونے کے لیے مڑے ، تو ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں پکارا اور کہا کہ آپ ہمیں یہاں تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا ، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں یہاں چھوڑ دیں؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اثبات میں اشارہ کیا، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین کے ساتھ جواب دیا : اس صورت میں، وہ (اللہ) ہمارا خیال رکھے گا اور ہمیں ہلاک ہونے نہیں دے گا۔

یہ تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل و عیال کا پختہ اور مضبوط ایمان اور وہ قربانی جو انہوں نے اللہ کے حکم کی تکمیل کے لیے دی ۔

اللہ تعالیٰ کو ان کی قربانی اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے ان کو آب زم زم کے جاری ہونے کا ذریعہ بنایا اور صفا و مروہ کے درمیان حضرت ہاجرہ کی سعی کو قیامت تک کے لیے حج و عمرہ کے ارکان کا حصہ بنایا۔

بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم

اس کے بعد جب نبی اسمٰعیل علیہ السلام چھ یا سات سال کے ہوگئے ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب کے ذریعے حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کریں ۔ چوں کہ انبیاء کا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اور سچا ہوتا ہے ، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

یہ امتحان جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرنا پڑا، یہ ان کا آخری امتحان تھا – یہ اس بات کا امتحان تھا کہ آیا وہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کریں گے یا اپنی دلی خواہش کو ترجیح دیں گے۔
بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹا عطا کیے جانے کے بعد اب انہیں اس اکلوتے بچے کی قربانی کا حکم دیا جا رہا تھا۔
ہر والدین کی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے اور اس کو اس دنیا میں اپنے ساتھ زندہ دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بچے کو زندہ دیکھنے کی خواہش خواہ کتنی ہی بھی ہو، اسے دبا کر بچے کو قربان کر دیا جائے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کو اپنی دلی خواہش پر ترجیح دینے میں ایک لمحے کے لیے بھی دریغ نہیں کیا۔ ان میں سے ہر ایک واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آپ کو اللہ تعالی کے ہر حکم کے آگے جھکا دیا تھا۔
تاہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ آرزو بھی تھی کہ ان کا بیٹا دل سے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔

چناں چہ انہوں نے اپنے بیٹے کو خواب کی خبر دی اور اس سے پوچھا کہ اس معاملے میں اس کی کیا رائے ہے ؟
ان کا بیٹا کافی کم عمر تھا ، اس کے باوجود، چوں کہ اس کی پرورش اسلامی اقدار پر ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں بسی ہوئی تھی ، اس نے بے ساختہ جواب دیا:

یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾‏

اے میرے پیارے ابا ! جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے ویسا کیجیے ! آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے!

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو زمین پر لٹایا اور اس کی گردن پر چھری رکھ دی ۔ اُس وقت اُن کے دل میں جو احساس تھا، ہم اُس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی رضا کے لیے اپنے پیارے بیٹے کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار تھے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں باپ اور بیٹے کی قربانی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚ وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙقَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ ‏الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾‏

جب دونوں (باپ اور بیٹے) اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھک گئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کو (ذبح کرنے کے لیے) پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے انہیں پکارا کہ اے ابراہیم تم کو خواب میں جو حکم دیا گیا تھا ، اس کو تم نے پورا کر دیا۔ اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ بے شک یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا۔

جب ہم اس آیت میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کے عمل کو لفظ اسلما سے تعبیر کیا ہے جو کہ اصل لفظ ’اسلام‘ سے نکلا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دونوں باپ بیٹے نے دل و جان سے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کیا اور سچا اسلام پیش کیا ۔
مگر حضرت ابراہیم ؑ کی کوشش کے باوجود، چھری حضرت اسماعیل کو نہیں کاٹ رہی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کے بدلے جنت سے ایک مینڈھا قربانی کے لیے بھیجا ۔ اللہ تعالیٰ اس آزمائش کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾‏
بے شک یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا (جس سے واضح طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کے حکم کے آگے کامل سپردگی ثابت ہوگئی )۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اس امتحان میں سرخ رو اور کامیاب ہوگئے ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خانہ کعبہ کی تعمیر کا شرف بخشا (جو کہ قیامت تک ساری انسانیت کے لیے ہدایت کا مرکز ہے) اور کعبہ کی تعمیر میں ان کے بیٹے حضرت اسماعیل ان کے معاون تھے۔

Check Also

باغِ محبت (قسط پچاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان مباحثہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے …