باغِ محبت (قسط پچاسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان مباحثہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں نمرود ایک ظالم بادشاہ تھا۔ وہ کافر تھا اور خدا ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور لوگوں کو اپنی عبادت پر مجبور کرتا تھا۔

جب نمرود نے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام لوگوں کو اس بات کی طرف دعوت دے رہے ہیں کہ لوگ صرف اللہ تعالی پر ایمان لائے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرے، تو نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے دربار میں بلایا۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرود کے سامنے آئے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دی؛ مگر نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت قبول نہیں کی اور ان سے کہا: میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے فرمایا: میرا رب اللہ ہے، جو زندگی اور موت دیتا ہے۔ نمرود نے زندگی اور موت کی حقیقت کو نہیں سمجھا؛ لہذا اس نے جواب دیا کہ میں بھی زندگی اور موت دیتا ہوں۔

اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اس نے دو قیدیوں کو بلایا اور حکم دیا کہ ایک کو قتل کیا جائے اور دوسرے کو رہا کر دیا جائے۔

نمرود نے زندگی اور موت کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ “زندگی دینا” یہ ہے کہ کسی بے جان چیز میں روح پھونک کر اس کو وجود میں لایا جائے اور” موت” یہ ہے کہ کسی زندہ چیز سے روح کو نکال دیا جائے، جہاں تمام اعضاء باقی ہوتے ہیں؛ لیکن اس چیز کو مردہ سمجھا جاتا ہے۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ نمرود صحیح طور پر نہیں سمجھ رہا ہے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بحث کا انداز بدل کر ایک دوسری دلیل پیش کی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے فرمایا: میرا اللہ وہ ہے، جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور سورج کو مغرب میں غروب کرتا ہے۔ اے نمرود! اگر تُو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تو سورج کو مغرب سے نکال اور مشرق میں غروب کر!

یہ دلیل ایسی تھی کہ نمرود کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا؛ لہذا وہ لا جواب رہ گیا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نمرود کی لا جوابی اور حیرانی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ

پھر جس نے کفر کیا (یعنی نمرود) وہ متحیر رہ گیا۔ (سورہ بقرہ، آیت: ۲۵۸)

اس کے بعد نمرود اور اس کے لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے ایک آگ جلائی۔ انہوں نے کئی دنوں تک آگ بھڑکائی؛ یہاں تک کہ اس کی گرمی اس حد تک پہنچ گئی کہ جو بھی اس کے قریب جاتا، وہ جل جاتا؛ لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دور سے آگ میں پھینکنے کے لیے ایک منجنیق لائی گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام ایمان پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے بے مثال قربانیاں دیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو براہ راست مخاطب کیا اور حکم دیا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور آرام دہ ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یٰنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ

اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور پُر سکون ہو جا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اس قدر پُر سکون اور راحت مند ہو گئی کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جو دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں گزارے، وہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ آرام دہ اور پر لُطف دن تھے۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ بادشاہ اور اس کے لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ آپ کی دعوت کے مخالف ہیں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام خود ان سے جدا ہو گئے اور چلے گئے۔

سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور گھر کو چھوڑا، پھر انہوں نے اپنے قوم کو چھوڑا اور آخر کار انہوں نے اپنے ملک کو (یعنی ملکِ عراق کو) بھی چھوڑا۔

Check Also

باغِ محبت (قسط چوراسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانیاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو …