عن سيدنا أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أنه قال: قدمت أنا وأخي من اليمن (إلى المدينة المنورة)، فمكثنا حينا ما نرى ابن مسعود وأمه إلا من أهل البيت، من كثرة دخولهم ولزومهم له (صحيح البخاري، الرقم: ٤٣٨٤)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جب میں اور میرا بھائی یمن سے (مدینہ منورہ ) آئے ، تو کچھ عرصے کے لیے ہم نے در حقیقت یہ سمجھا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد ہیں، کیوں کہ وہ کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آتے جاتے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب تھے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوجہل کا قتل
غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو فتح حاصل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ کون جائے گا اور دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا حال ہے ؟
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی تلاش میں نکلے تو معلوم ہوا کہ عفراء رضی اللہ عنہا کے دو بیٹوں نے اسے زخمی کر دیا تھا اور وہ مرنے کے قریب ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اپنا پاؤں اس کی گردن پر رکھا۔ انہوں نے اس کی داڑھی بھی پکڑ لی اور اسے مخاطب کر کے کہا : کیا تو ابوجہل ہے؟ اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوا کر دیا ۔
ابوجہل نے کہا کیا مجھ سے بڑا کوئی آدمی ہے جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہو؟ اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا : اے چھوٹے چرواہے! تم ایک بہت ہی بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہے ہو (بد بخت موت کے وقت بھی وہ فخر و تکبر سے پھولا ہوا تھا)
اس کے بعد، اس نے کہا : کاش تم جیسے کاشت کار کے علاوہ کوئی اور شخص مجھے قتل کرتا (تاکہ وہ میرے لیے اعزاز کا باعث ہوتا ) ۔
ابوجہل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا کہ جب تم میرا سر قلم کرو گے ، تو میرا سر میری گردن کے نیچے کندھے کے قریب سے کاٹنا، تاکہ لوگ جب میرے سر کو دیکھیں تو وہ زیادہ خوف محسوس کریں (اور دوسرے مقتولین کے سروں سے میرا سر اونچا رہے)۔
اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مزید یہ کہا کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس جاؤ ، تو ان کو بتاؤ کہ آج میں ان سے پہلے کی بنسبت زیادہ نفرت کرتا ہوں ۔ ویسے تو میں ساری زندگی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا دشمن رہا ، لیکن آج اللہ تعالیٰ سے میری دشمنی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا۔ پھر اس کے سر کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے پوچھا: اللہ کی قسم کیا یہ ابوجہل کا سر ہے؟
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم کھا کر کہا : یہ ابوجہل کا سر ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الله أكبر، الحمد لله الذي صدق وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده
اللہ سب سے بڑا ہے! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں! اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اس نے اکیلے ہی دشمن کو شکست دی!
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے دکھاؤ کہ ان کی لاش کہاں ہے؟
جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کی لاش کے پاس لے کر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے:
الحمد لله الذي أعز الإسلام وأهله
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت بخشی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: “یہ اس امت کا فرعون ہے۔”
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ابوجہل کی تلوار (مال غنیمت میں سے حصہ کے طور پر) عطا فرمائی۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી