
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانیاں
الله تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر مختلف ازمائشیں اور امتحانات لائیں اور وہ ہر امتحان اور آزمائش میں کامل اسلام اور مکمل فرماں برداری ظاہر کرتے ہوئے کامیاب ہوئے۔
در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الله تعالی کی رضا کے لیے جو اپنی زندگی میں عظیم قربانیاں دیں تھیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسلام (یعنی مکمل اطاعت اور فرماں برداری) کے مجسم نمونہ تھے اور انہوں نے الله رب العزت کے ہر حکم کے سامنے اپنے دل، دماغ، جسم اور پوری زندگی کو تسلیم کی؛ تاکہ ہر موقع پر وہ الله تعالٰی کا ہر حکم پورا کر سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ الله تعالیٰ نے خصوصی طور پر اسلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ بتایا ہے۔
گھر چھوڑنے کی آزمائش
سب سے پہلی قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الله تعالی کی رضا کے لیے دی تھی، وہ اپنا گھر اور شہر چھوڑنے کی قربانی تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اور ان کے قبیلے کے لوگ بت پرست تھے اور شرک وکفر میں مبتلا تھے۔ در حقیقت ان کا والد ایک بت ساز (بت بنانے والا) تھا اور ان کا گھر بت سازی کا کارخانہ تھا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے پاس گئے اور محبت واحترام کے ساتھ اپنے والد کو بت پرستی سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
ان کے والد کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے جو الفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہے تھے، وہ قرآن مجید میں نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا:
یٰۤأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
اے میرے پیارے والد! آپ اس (بت) کو کیوں پوجتے ہیں، جو نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے؟
مگر ان کا والد عقل استعمال کرنے کے بجائے ناراض ہوا اور کہا:
أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا
اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کر رہا ہے؟ اگر تو (میرے بتوں کے خلاف بولنے سے) باز نہ آئے، تو میں تجھ کو ضرور سنگسار کروں گا اور تو مجھ سے لمبی مدت تک دور رہ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اور ان کے خاندان کے لوگ دینِ اسلام کے مخالف تھے؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری کوشش اور محنت کے باوجود وہ لوگ اپنی غلطیوں سے باز آنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور وہ اپنی بری حالت کی اصلاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دیکھا، تو انہوں نے اپنے خاندان اور گھر والوں کو چھوڑ کر نکل گئے؛ کیوں کہ وہاں کفر وشرک کا ماحول تھا۔
آبائی وطن چھوڑنے کی آزمائش
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو الله تعالی کی طرف بلایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:
مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
یہ بت کیا ہیں، جن پر تم جمے بیٹھے ہو؟
ان کی قوم نے جواب دیا: ہم نے اپنے آباؤ واجداد کو بت پرستی کرتے ہوئے پایا؛ لہذا ہم بھی بت پرستی کریں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بتایا کہ ان کے آباء واجداد گمراہی میں تھے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو الله تعالی کی طرف بلایا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ
(نہیں!) بل کہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس کی گواہی دینے والوں میں سے ہوں!
مگر ان کی قوم اپنی ضد پر قائم رہی اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا؛ اس لیے بعد میں جب ان کی قوم اپنے تہوار کے لیے گئے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے بتوں کے پاس گئے اور انہیں توڑنا شروع کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور اس کے گلے میں کلہاڑی لٹکا دی۔
جب لوگ اپنے تہوار سے واپس آئے اور اپنے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے دیکھا، تو وہ بہت ناراض ہوئے۔ انہیں شبہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے ان کے بتوں کو توڑا ہے؛ لہذا انہوں نے انہیں بلوایا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور تمام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا؟
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ تمام لوگ موجود ہیں، تو انہوں نے فوراً موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی اور ان کو سمجھایا کہ ان کے بت بے کار اور بے بس ہیں، جو کچھ نہیں کر سکتے ہیں اور نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔
چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا، جس کی گردن میں کلہاڑی تھی اور کہا: نہیں؛ بل کہ ان کے اِس بڑے بت نے ایسا کیا ہے۔ تم ان سے پوچھو، اگر وہ بول سکتے ہیں۔
بالآخر ان کی قوم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کے بت بے کار اور بے جان ہیں اور انہیں شکست تسلیم کرنی پڑی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بات نہیں کر سکتے ہیں! چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
تو کیا تم الله کو چھوڑ کر ان (بتوں) کی عبادت کرتے ہو، جو نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اُف ہے تم پر اور ان پر جن کی عبادت تم کرتے ہو الله کے سوا! کیا تم نہیں سمجھتے ہو؟
ان کی قوم کے سامنے ان کی غلطی ظاہر ہو گئی، اس کے باوجود ان کی قوم نے الله تعالی پر ایمان نہیں لائے۔
لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے آبائی وطن اور اپنے لوگوں سے دور ہو گئے، جو اللہ تعالی پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી