رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا:
” چار لوگوں سے قرآن کریم سیکھو۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جس کا نام لیا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سالم (ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام )، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک نو عمر نوجوان تھے ۔ مکہ مکرمہ کے علاقے میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ بکریاں چرا رہے تھے ۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے ۔ اس وقت وہ دونوں مشرکین مکہ سے بچ کر نکل رہے تھے۔
چوں کہ عربوں کا رواج تھا کہ مسافروں کو دودھ پلایا جاتا تھا، اس لیے بکریاں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ ہمیں دودھ پلاؤ۔
اُنہوں نے ان سے کہا اے نوجوان! کیا تمہارے پاس ہمیں پیش کرنے کے لیے کچھ دودھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں دودھ تو ہے۔ مگر یہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں ، لہذا میں آپ کو دودھ نہیں دے سکتا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس ایک بکری لاؤ جس کا ابھی تک ملاپ نہیں ہوا ہے ( ابھی دودھ نہیں دے رہی ہے)۔ چناں چہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا بچہ لے کر آیا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بکری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دودھ پلانے کی دعا کرتے ہوئے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تھن معجزانہ طور پر دودھ سے بھرنے لگے۔
اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھر لے کر جو برتن نما تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دودھ نکالا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا۔
اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانور کے تھنوں کو حکم دیا کہ وہ پہلے کی طرح ہوجائیں ۔ چناں چہ وہ فوراً پہلے کی طرح ہوگئے یعنی دودھ ختم ہوگیا ۔
یہ معجزہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔
اسلام قبول کرنے کے وقت آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ مجھے وہ کلمات سکھا دیں جو آپ نے اس وقت پڑھے تھے جب آپ نے اس جانور سے دودھ نکالا تھا جس کے تھن میں دودھ نہیں تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا اور فرمایا:
يرحمك الله فإنك غليم معلم
“اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، بے شک تم ایک ایسے نوجوان ہو جو علم کے میدان میں خوب ترقی کرے گا۔
ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી