باغِ محبت (قسط بیاسی)

“خلیل اللہ” کے لقب سے شرف یاب ہونا

تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو “خلیل الله” (الله کے خاص دوست) کے لقب سے نوازا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ شرف کیسے حاصل ہوا، اس کے بارے میں علامہ ابن کثیر رحمہ الله نے درج ذیل واقعہ بیان کیا:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت شریفہ تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلاتے تھے؛ تاکہ وہ ان کے ساتھ کھائیں۔

ایک موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام باہر گئے اور کسی شخص کی تلاش میں تھے؛ تاکہ وہ اس کو اپنا مہمان بنا کر گھر لے آئیں اور اس کے ساتھ کھانا کھائیں؛ مگر ان کو کوئی نہیں ملا؛ لہذا وہ اپنے گھر واپس آ گئے۔

گھر پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر کے اندر داخل ہوا تھا اور وہاں کھڑا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ اے الله کے بندے! آپ میرے گھر میں بغیر اجازت کیوں داخل ہوئے؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ مجھے اس ذات کی طرف سے داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جو آپ کے گھر کا حقیقی مالک ہے (یعنی الله تعالی نے مجھے اجازت دی ہے)۔

یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس آدمی سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ملَک الموت ہوں۔ میرے رب نے مجھے اپنے ایک بندے کے پاس بھیجا ہے؛ تاکہ میں انہیں یہ بشارت دوں کہ الله تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل (خاص دوست) بنایا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ مخصوص آدمی کون ہے؟ الله کی قسم! اگر آپ مجھے ان کا نام اور پتہ بتا دیں، تو میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا؛ خواہ وہ ایک دور دراز علاقے میں ہو۔ میں ان کے ساتھ رہوں گا؛ یہاں تک کہ موت ہمیں جدا کر دے۔ پھر ملک الموت نے کہا کہ تم وہ مخصوص بندے ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور پوچھا: کیا واقعی میں وہ مخصوص آدمی ہوں؟ جب فرشتے نے تصدیق کی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ مخصوص آدمی ہیں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ الله نے مجھے اپنا خلیل کیوں بنایا؟ فرشتے نے جواب دیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تم ہمیشہ لوگوں کو دیتے ہو اور لوگوں سے کچھ نہیں مانگتے ہو۔

جب ہم اس واقعہ پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ایک خاص صفت تھی، جو الله تعالیٰ کو محبوب تھا، وہ خاص صفت یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں بندوں کی ہمدردی اور شفقت تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو دیتے تھے اور ان کی مدد کرتے تھے اور وہ ان سے کچھ توقع نہیں رکھتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ پر ایک مجوسی کا اسلام قبول کرنا

ایک دفعہ ایک مجوسی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور کچھ کھانا مانگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اگر تم اسلام قبول کر لو، تو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ یہ سن کر وہ مجوسی چلا گیا۔

اس کے بعد الله تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی بھیجی کہ اے ابراہیم! تم اسے کھانا نہیں کھلانا چاہتے ہیں؛ کیوں کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور اس نے اسلام قبول نہیں کیا ہے؛ لیکن ہم ستر سال سے اسے کھلا رہے ہیں کافر ہونے کے باوجود۔ تم نے اسے کم از کم ایک رات کیوں نہیں کھلایا؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً اس مجوسی کو ڈھونڈنے گئے۔ اسے واپس بلایا اور اس کو کھانا کھلایا۔ اس کے بعد اس مجوسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا اور مجھے کھانا کھلایا؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ الله تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں کھانا کھلاؤں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مجوسی کو وحی کے بارے میں بتائی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات سن کر وہ مجوسی بہت متاثر ہوا اور اس نے پوچھا: کیا مجھ پر الله تعالی کی یہ بے پناہ مہربانی ہے؟

اس کے بعد اس مجوسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ مجھ پر اسلام پیش کجیے؛ تاکہ میں اسلام قبول کروں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا اور اس نے اسلام قبول کیا۔ (احیاء علوم الدین ۴/۱۵۴)

Check Also

باغِ محبت (قسط نواسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت قرآن مجید …