جب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی، تو وہ بہت روئے اور فرمایا:
أخي وخليلي، عاش وحده (في الربذة)، ومات وحده، ويبعث وحده (من الربذة)، طوبى له (البشارة بالجنة). (الاستيعاب ١/٢٥٣)
وہ (یعنی حضرت ابو ذر) میرا بھائی اور میرا قریبی دوست ہے۔ وہ (ربذہ میں) اکیلا رہا اور اکیلے ہی وفات پائی اور وہ اکیلا ہی (ربذہ سے) قیامت کے دن اٹھایا جائےگا۔ ان کے لیے (جنت کی) بشارت ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات
جب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے موت کا وقت قریب آیا، تو ان کے ساتھ ان کی بیوی اور غلام کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ انہوں نے انہیں حکم دیا کہ (جب میری وفات ہو جائے)، تو مجھے غسل دو اور کفن پہناؤ۔ پھر میرے جنازہ کو لے کر راستے پر رکھ دو۔ سب سے پہلے جو قافلہ گزرے، ان سے کہو کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی وفات ہو گئی ہے۔ ان کی تدفین میں ہماری مدد کرو۔
جب ان کا انتقال ہو گیا، تو ان دونوں نے ان کے حکم پر عمل کیا (یعنی انہوں نے انہیں غسل دیا، ان کو کفن پہنایا پھر ان کے جنازہ کو راستے پر رکھ دیا)۔
سب سے پہلا قافلہ جو وہاں سے گزرا، وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قافلہ تھا۔ وہ عراق سے کچھ لوگوں کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جا رہے تھے۔
جب وہ وہاں سے گزر رہے تھے، تو راستے پر ایک لاش دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ اس بات کا اندیشہ تھا کہ اونٹ اسے روند ڈالیں گے، تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا غلام آگے آیا اور قافلہ والوں سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو ذر رضی اللہ عنہ کا جنازہ ہے۔ انہیں دفن کرنے میں ہماری مدد کریں۔
یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تبوک کے موقع پر) سچ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو ذر! تم اکیلے پیدل چل رہے ہو (غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے)۔ تم اکیلے ہی مروگے اور اکیلے ہی اٹھائے جاؤ گے۔
پھر وہ اپنے اونٹوں سے اترے اور انہیں دفن کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ (ابن سعد ۴/۱۷۷)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી